English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو ’جاری تحقیقات اورایف آئی آرز‘ کالعدم قرار دینے سے روک دیا

القمر

 اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام ہائیکورٹس کو ’جاری تحقیقات اور ایف آئی آرز‘ کالعدم قرار دینے سے روک دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ کو تحقیقات یا ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں کیونکہ  ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 اے کا اختیار استعمال نہیں کرسکتے۔

تاہم سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر ملزمان نے ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دی ہو تو ہی 561 کا اختیار استعمال ہوسکتا ہے۔ ہائیکورٹس ماتحت عدلیہ کے احکامات کالعدم قرار دے سکتی ہیں مگر تحقیقات نہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ آئینی دائرہ اختیار کے تحت تحقیقات اور مقدمات کا جائزہ لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت میں کہا ہے کہ سرکاری افسران کو دیئے گئے اختیارات دراصل اپر ان اعتماد ہوتا ہے اورسرکاری افسران سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال شفافیت اور نیک نیتی سے کریں۔

اسی مناسبت سے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سی ڈی اے میں ملازمین کی اپ گریڈیشن میں کوئی جرم نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے غیرضروری اپیل دائر کرنے پر ایف آئی اے انسپکٹر پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم، اسلام آباد کے سربراہ، عرفان برکی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ عرفان برکی ایک ماہ میں ذاتی خرچ سے جرمانہ، رجسٹرار دفتر میں جمع کرائیں جو مقدمے میں نامزد سی ڈی اے افسران کو دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے مطابق اگرجرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔ آخر میں سی ڈی اے افسران کیخلاف مقدمہ کالعدم کرنے کے فیصلے کےخلاف ایف آئی اے کی اپیل بھی خارج کردی گئی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے