امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکی فوج کی طرف سے آسمان پر پرواز کرنے والے اور گرائے جانے والی آخری تین اجسام میں جاسوسی کی خصوصیات نہیں ہیں اور ان کا تعلق نجی کمپنیوں سے ہے۔
امریکہ میں حال ہی میں جو موضوع عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ہے وہ آسمان پر پرواز کرنے والے اجسام ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے پہلی بار اس موضوع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے غبارے کے سوا گراءے گئے تین اجسام جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ تحقیق یا تفریحی مقاصد کے لیے نجی کمپنیوں کے غبارے ہیں، بائیڈن نے کہا کہ انٹیلی جنس یونٹ اشیاء کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ ان اشیاء کو خودمختاری کا حق استعمال کرتے ہوئے گرایا گیا ہے اور کہا کہ ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس جسم یا اشیاء کو جس سے ان کے ملک کو خطرہ ہو گا گرا دینے کا حق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ چینی رہنما شی جن پنگ سے اس سلسلے میں بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ تنازع نہیں،رقابت کے خوہاں ہیں ، ہم نئی سرد جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے ہیں۔
