ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور یہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے رہا۔
اپنے جاری کردہ بیان میں ترجمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپناکام آئین ، قانون اور اپنے مینڈیٹ کے مطابق خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے رہا۔
بیان کے مطابق الیکشن کمیشن اپنی آئینی اور قانونی ذمے داریوں کو مکمل غیر جانبدارانہ ،بلا خوف وخطراورآزادانہ طور پر انجا م دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ صرف وہی امور سرانجام دیتا ہے جو آئین نے تفویض کیے ئے ہیں۔ کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تشکیل کردہ بینچوں کے ذریعے اب تک سیکڑوں پٹیشنز کا فیصلہ کر چکا ہے۔
ترجمان نے بیان میں مزید کہا کہ مدت ختم ہونے کے بعد سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات کا کامیاب انعقاد کیا۔ سینیٹ کے 5، قومی اسمبلی کے 19اور صوبائی اسمبلیوں کے 40 حلقوں پر ضمنی انتخابات کا پرامن انعقاد یقینی بنایا۔ الیکشن کمیشن اب بھی 65 قومی اسمبلی کے حلقوں پر انتخابات کرارہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا کام کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ انتخابی فہرستوں کو نئے سرے سے مرتب کرنا بہت بڑا کام تھا۔ کمیشن نے انتخابی فہرستوں پر ملک بھر میں نظر ثانی کرکے 7اکتوبر کو شائع کر دیں۔ انتخابی فہرستیں آئندہ عام انتخابات کے لیے اپ ڈیٹ کی گئیں۔

