English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ میں تارکین وطن کی تعداد پر کنڑول کے لیے نئے اقدامات پر غور

بائیڈن انتطامیہ نے منگل کے روز ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت حکومت کو، امریکہ میں پناہ کے متلاشی تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ جو امریکہ۔ میکسیکو سرحد پر تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی انتظامیہ کی کوششوں کا حصہ ہے، مؤثر ہونے سے پہلے ہی تارکین وطن کے حامیوں کی نکتہ چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایسے تارکینِ وطن جو امریکہ میں داخل ہونے کے لیے موجود راستے اختیار نہیں کرتے یا کسی اور ملک میں جس سے وہ گذر کر آرہے ہوتے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو استثنیٰ کے بغیرانہیں پناہ کے لیے مستحق خیال نہیں کیا جائے گا۔


 صدر بائیڈن الپاسو ٹکساس میں امریکی سرحدی گشت کے عہدے داروں سے بات کر رہے ہیں : فوٹو اے پی 8 جنوری 2023

 صدر بائیڈن الپاسو ٹکساس میں امریکی سرحدی گشت کے عہدے داروں سے بات کر رہے ہیں : فوٹو اے پی 8 جنوری 2023

ایسے لوگ جو استثنیٰ کے حقدار نہیں ہیں یا یہ ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ انہوں نے کسی اور ملک میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، انہیں کسی امیگریشن جج کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیے بغیر فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔

میڈیا کے نمائندوں سے فون پر بات کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت اب بھی تارکینِ وطن کو پناہ کی درخواست دینے کے لیے قابلِ رسائی اور آسان راستے حاصل ہیں۔

اس منصوبے میں دی گئی شقوں کا مقصدان سمگلروں کا بھی راستہ روکنا ہے جو خطرے میں گھرے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ان مجوزہ ضابطوں پر جن کا آغاز مئی میں ہوگا، رائے دینے کے لیے 30 دن دیے جا رہے ہیں۔


امریکی نائب صدر کاملا ہیرس میکسیکو سرحد پر کسٹم اور سیکیورٹی حکام سے بات کر رہی ہیں۔ 25 جون 2021

امریکی نائب صدر کاملا ہیرس میکسیکو سرحد پر کسٹم اور سیکیورٹی حکام سے بات کر رہی ہیں۔ 25 جون 2021

اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی 2019 کی پناہ حاصل کرنے کے سلسلے میں عائد پابدیوں کی؂ تجدید ہے جن پر وفاقی عدالتوں نے روک لگا دی تھی۔

کرش او مارا وگناراجہ ’لوتھرن امیگریشن اینڈ ریفیوجی سروس‘ نامی کمپنی کے سی ای او اور صدر ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفر پر یہ پابندی امریکہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تحفظ کی عشروں پرانی روایت کی نفی کرتی ہے جس کی ضمانت امریکی قانون اور بین الاقوامی معاہدوں میں دی گئی ہے۔ اور یہ صدر بائیڈن کے اسائلم کو دوبارہ بحال کرنے کےانتخابی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ یہ منصوبہ اسائلم یا سفر پر کوئی پابندی ہے یا یہ کہ یہ سابق انتظامیہ کے اقدامات کا تسلسل ہے۔

امریکی قانون کے تحت اب بھی ایسے افراد کو امریکی سرزمین پر محفوظ پناہ حاصل ہو سکتی ہے جنہیں اپنے ملک میں نسل، مذہب، قومیت، سیاسی نظریے یا کسی خاص گروپ میں رکنیت حاصل کرنے کے باعث جبرو ستم کا سامنا ہو خواہ وہ امریکہ میں اجازت کے بغیر داخل ہوئے ہوں۔

امریکہ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر آلی ہانڈرو میورکیس، فوٹو اے پی 13 اکتوبر 2022

امریکہ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر آلی ہانڈرو میورکیس، فوٹو اے پی 13 اکتوبر 2022

امریکہ میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر آلی ہانڈرو میورکیس نے پریس کے لیے ایک بیان میں کہا ہے،’ ہم تارکینِ وطن کی قوم ہیں مگر ہم قانون کی پابند ی کرتے ہیں۔”

انہوں نے کہا،’ہم تارکینِ وطن کے لیے امریکہ میں داخلے کے قانونی اور منظم راستے مہیا کرنے کے طریقے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے نئے ضابطوں کو متعارف کر رہے ہیں جو امریکہ اور خطے میں اس کے شراکت دروں کے مہیا کردہ طریقہ کار کو استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔‘

اس بات کا امکان ہے کہ اگر اس منصوبے پر عملدرآمد ہوا تو اسے امیگریشن کی حمایت کرنے والوں کی طرف سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔

(وی او اے نیوز)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے