English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدم تحفظ کے ایسے حالات برآمدات کیلئے  نقصان دہ ہیں، مفتاح اسماعیل

petrol price

کراچی :سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عدم تحفظ کے ایسے حالات ہماری برآمدات کے لیے شدید نقصان دہ ہیں، پاکستان کی برآمدات 1992 میں کل عالمی برآمدات کا 0.18 فیصد تھیں، جو 2022 میں کم ہو کر 0.13 فیصد رہ گئیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ  ہماری برآمدات 1999 میں 16.5 فیصد سے کم ہو کر 2022 میں 9 فیصد رہ گئیں، غیر ملکی عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے پاکستان نہیں آتے، بہت سی غیر ملکی ایئر لائنز پاکستان نہیں آتیں، وہ اپنے عملے کا رات بھر پاکستان میں رہنا پسند نہیں کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فیکٹریاں اپنے خریداروں کو ملنے کے قابل نہیں ہیں، بڑی مغربی کمپنیوں کے دفاتر بھارت اور بنگلادیش میں ہیں لیکن پاکستان میں نہیں، ہمیں برآمدی شعبے میں بھی کوئی بیرونی سرمایہ کاری نہیں ملتی۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ روپیہ مضبوط کرنے کی پالیسی ہماری برآمدات کو چند سال غیرمسابقتی رکھتی ہے، روپیہ مضبوط کرنے کی پالیسی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے، اس سے زرمبادلہ ختم اور روپے کی قیمت کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک کو بحران سے نکلنے میں چند سال لگتے ہیں، ہم روپے کو سہارا دینا شروع کر دیتے ہیں اور سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، ہماری کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں حصہ حاصل کرنے کی ہمت نہیں ملتی، ہماری کمپنیاں بہت سی عالمی ویلیو چینز کا حصہ نہیں ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہماری طرف سے مینوفیکچررز کی حفاظت کی جاتی ہے، ہمارا آدھے سے زیادہ وفاقی ٹیکس بندرگاہوں سے آتا ہے، درآمد شدہ سامان فراہم کیا جاتا ہے جو برآمدی سامان کی مینوفیکچرنگ میں جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے