لاہور:جماعت اسلامی پاکستان کے پالیسی ساز ادارہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ 3تا5مارچ 2023ء میں ارکان شوریٰ کی طرف سے ملک کے آئینی ، سیاسی ، اقتصادی ، نظریاتی وتہذیبی اورسماجی بحرانوں پر تفصیلی بحث و تمحیص کی گئی۔
اجلاس کی رائے میں آئین پاکستان، قیام پاکستان کے مقاصد اور قرآن و سنت کے احکامات سے بغاوت اور انحراف کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہے۔ فوجی آمریتوں ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ ، پاکستان تحریک انصاف کا بدنماطرز حکمرانی اور کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام کی غلامانہ ذہن کے مالک،پالیسی ساز، ملک وملت کی اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں.
علاوہ ازیں غیر ترقیاتی اخراجات ، کرپٹ ، بے حس ، مفاد پرست اشرافیہ قومی و جود کے لیے سرطان بن گئی ہے۔ عام آدمی ،محنت کش طبقہ اور امانت و قناعت سے گزر بسر کرنے والے طبقات کے لیے بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئے ہیں۔
مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ملک کو درپیش بحرانوں اور مسائل پر بحث کے بعد سیاسی قرار داد کی منظوری دی ہے کہ :
-
ملکی سیاسی صورت حال مسلسل بے یقینی اور افراتفری کاشکار ہے ، ماضی کے حکمرانوں کی طرح پی ڈی ایم اتحاد حکومت مسائل حل کرنے اور بحرانوں کا خاتمہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ جذباتی نمائشی ،شدت پسند اور نفرت پر مبنی انتقامی سیاست نے آئینی ، جمہوری ،پارلیمانی بحران مزید گہراکردیا ہے۔
-
قومی سیاسی قیادت کی انا، ضد اورہٹ دھرمی کی وجہ سے سیاست بے وقار ،بے توقیر اور سیاسی پارلیمانی نظام بے معنی بنادیاگیا ہے۔
-
پاکستان کی نظریاتی،اسلامی اخلاقی اور تہذیبی اقدار کا حلیہ بگاڑدیا ہے۔ اقتصادی بحران تو خوفناک ہے لیکن عملاً ملک کو اخلاقیات ، تہذیب ، شائستگی اور برداشت کے محاذ پربھی دیوالیہ کردیاگیاہے۔ سیاسی شدت ،انتہاپسندی اورذاتی انابڑا قومی روگ بن گئے ہیں ، بے اصول ، کرپٹ اور مفاد پرست طرز سیاست اس تباہی کا اصل ذمہ دار ہے۔
-
قومی سلامتی کے لیے خطرات مسلسل بڑھتے جارہے ہیں ، اقتصادی اور خارجہ محاذ پرمستحکم پالیسی نہ ہونے کے باعث ملکی وجود، آزادی ،خودمختاری اور ایٹمی صلاحیت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں اپنے ایجنڈے پر شیطانی پیش رفت کررہی ہیں جبکہ سول ملٹری تعلقات کی بڑھتی ہوئی کشیدگی ، ریاستی اداروں کی کمزوری ، ریاست کی طرف سے لاقانونیت اور مسلط کردہ اقدامات ،فوج اور عوام کے درمیان خوفناک فاصلہ پیداکرچکے ہیں۔
-
سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نا انصافی ، لاقانونیت اور طاقت کے گھمنڈ میں اختیار کردہ روش کو ختم کرناہوگا ۔ عوام اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو رول آف لاء اور آئینی حدود کو قبول کرکے ختم کرنے کاراستہ اپناناہوگا۔
-
اقتصادی بحران بھیانک اور خوفناک شکل اختیار کر گیا ہے۔ سودی قرضوں ،شرح سود میں 20%اضافہ ،بد انتظامی اور کرپٹ معاشی اقدامات مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں ۔ مہنگائی بے قابو ، ادویات کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ،روپے کی قدر میں گراوٹ ،بجلی ،گیس ،تیل کی گرانی سے تجارت ، صنعت اور زراعت کاپہیہ جام ہے۔ اتحاد ی حکومت نے 85سے زائد وزیروں اورمشیروں کی ناکارہ فوج مسلط کرکے عوام میں بے چینی نفرت اور انتقام کے جذبات بھڑکا دیے ہیں۔
-
فوجی ، سول انتظامیہ اور کرپٹ مفاد پرست سیاسی مافیاز کے بے تحاشا غیر ترقیاتی اخراجات اور عیاشیاں ناقابل برداشت بوجھ بن چکی ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد3کروڑ سے زائد متاثرین کی بحالی اور امداد سے وفاقی و صوبائی حکومتیں فرار ہوگئی ہیں۔ متاثرین سیلاب انتہائی کسمپرسی میں ہیں۔حاصل شدہ امداد میں شفافیت نہیں رہی۔ زرعی ملک کی زراعت کے لیے تباہ کن پالیسیوں اور رویوں نے گندم ، آٹا، چینی ،کپاس ، باغات اورسبزیوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کردیا ہے ۔
-
سودی نظام اقتصادی تباہی کی بنیاد ہے لیکن حکمران اورپالیسی ساز وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ پوری ڈھٹائی سے سود کے خاتمے کے بجائے شرح سود تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچادیاہے۔
-
عالمی سطح پر کشکول پھیلانے ،کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے آئی ایم ایف کی بدترین شرائط سراسر تباہی ہیں۔ حکمران اسلامی معاشی نظام ، خود انحصاری ، خود داری ،بیرون ملک پاکستانیوں کی طاقت پر انحصار کے لیے تیار نہیں ۔ اب یہ نوشتہ دیوار ہے کہ ملک پر مسلط حکمران ٹولے کے ہاتھوں اقتصادی بحرانوں کاخاتمہ ممکن نہیں رہا۔
-
انتخابات ہی قومی وحدت ،یکجہتی ، عوامی اعتماد و یقین کا پائیدار جمہوری راستہ ہیں۔ سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سیاست اور انتخابات میں کھلی مداخلت ، من پسند نتائج کے حصول اور پسندیدہ قیادتوں کو عوام پر مسلط کرنے کا غیر آئینی طریقہ اختیار کیے رکھا، اب یہ عمل بڑی تباہی کا سبب بن گیاہے۔
-
نام نہاد سیاسی ، جمہوری اور پارلیمانی روایات کی دعویدار جماعتوں نے آمرانہ غیر جمہوری اور غیر پارلیمانی رویوں سے انتخابات اور ووٹ کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ انجینئرڈ انتخابات قومی وجود کے لیے زہر قاتل بن گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر ریاستی اورسیاسی دباؤ نے اس قومی آئینی ادارے کو مفلوج کردیا ہے۔ جمہوریت، سیاست اور انتخابی نظام کو دولت اورمنفی پروپیگنڈہ کاکھیل بناکر تباہی کی طرف دھکیل دیا کیاگیاہے۔
-
شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ، آئین کی مقرر کردہ حدود او رمیقات کی پاسداری سے ہی سیاسی استحکام ممکن ہو گا۔ قومی سیاسی قیادت، گورنرزاور نگران حکومتیں نا اہل ثابت ہوئی ہیں جس سے سیاست اور جمہوریت ،اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے متنازعہ اور اختلافی فیصلوں اور طرز عمل کاشکار ہوگئی ہے۔ آزمائی ہوئی سیاسی مقتدر قوتیں ناکام ہیں ۔
-
ملک و ملت کو درپیش مسائل اور بحرانوں کے حل کے لیے تازہ دم ،با اعتماد ، اہل ، دیانت داراور صاحب کردار، خدمت گزار ، آئین و قانون کی پابندقیادت اور جماعت کی ضرورت ہے۔
-
مرکزی مجلس شوریٰ کااجلاس کراچی بلدیاتی انتخابات میں شاندار کامیابی پر اللہ کاشکر ،کراچی کے عوام کا شکریہ اور حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں مسلسل محنت پر تحسین اور مبارک باد دیتاہے۔ کراچی کے عوام نے شہری مسائل کے حل کے لیے اپنا مینڈیٹ جماعت اسلامی کو دیا ہے ، عوام کامینڈیٹ تبدیل کرنے کا ہر حربہ قومی جرم ہے ۔
-
الیکشن کمیشن عوام کے فیصلہ کا محافظ بنے جماعت اسلامی کی جیت تسلیم کی جائے ۔ جماعت اسلامی ہی کراچی کے مسائل کا با اعتماد اور پائیدار حل ہے۔ کراچی بلدیاتی انتخابات میں کامیاب جماعتیں جماعت اسلامی پر اتفاق کرلیں تو کراچی مسائل سے نجات پائے گا اور خوشحال ہوگا۔
-
گوادر بلوچستان حق دو تحریک کے قائد اور جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کو ناجائزمقدمہ قتل میں ملوث کرکے پس دیوار زنداں رکھنا کھلا ظلم اور جبر ہے۔ یہ حکومت اور ریاستی اداروں کاغلط اقدام ہے ۔ گوادر کے عوام سی پیک کی ترقی سے اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کامطالبہ کررہے ہیں اور پینے کا پانی ، بجلی ،تعلیم ،روزگار اور ماہی گیری کے لیے مقامی لوگوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔ ٹرالر مافیا اور بارڈرٹریڈ پر ناروا پابندیوں سے نجات چاہتے ہیں ۔
-
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کو رہا کیاجائے اور عوامی مسائل حل کیے جائیں۔ بلوچستان کے لیے فوج اور سیکورٹی ادارے اور حکومت ناکارہ فرسودہ طرز عمل ترک کریں ۔ بلوچستان کے عوام کااعتماد بحال کرنے کے لیے عوام سے ڈائیلاگ کیاجائے۔
-
ملک میں دہشت گردی مسلسل بڑھ رہی ہے ،عوام کی جان ومال اورعزت غیر محفوظ ہے ۔ بے گناہ انسانوں کا اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری کے لیے تاجر اور محنت کشوں کو دھمکیاں ،پنجاب ، سندھ کے کچا کے علاقہ میں ڈاکوراج، حکومت اور سیکورٹی اداروں کی بے بسی بڑا المیہ ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ کے اسباب میں بھارتی دہشت گردی کا بڑاہاتھ ہے جو ریاست وحکومت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
-
پشاور ،کراچی ، بلوچستان میں دہشت گردی کے سانحات کے بعد اتحادی حکومت اعلان کے باوجود اے پی سی منعقد نہ کرسکنابڑی ناکامی اور بے تدبیری ہے۔ حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل کرے اور بھارتی دہشت گردی روکے ، اسے عالمی سطح پر بے نقاب کیاجائے۔ حکومت عوام کی جان و مال ،عزت کاتحفظ کرے یا عوام کی جان چھوڑ دے۔ lبااختیار بلدیاتی نظام، عوامی شہری حقوق کا ضامن ہوتاہے ۔
-
حکومتیں با اختیار بلدیاتی نظام کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔ شہری حقوق پر دیدہ دلیری سے ڈاکہ زنی کی جارہی ہے۔ پنجاب اور اسلام آباد کے عوام بلدیاتی نظام سے محروم ہیں۔ بلوچستان ، بلدیاتی نظام مفلوج کردیاگیا ہے۔ خیبر پختونخوا ،بلدیاتی نظام غیر مؤثر بنادیا ہے اور سندھ میں صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات پر شب خون مارکر بلدیاتی نظام کو مذاق بنادیا ہے۔ بااختیار بلدیاتی نظام ہی دیہی اور شہری حقوق بحال کرسکتا ہے۔
-
سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وعدے پورے نہیں ہوئے اس وجہ سے نئے ضم شدہ اضلاع میں احساس محرومی بڑھا ہے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے ساتھ 100ارب روپے سالانہ اور 3فیصد این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیئے جانے کے وعدے پورے کیے جائیں۔
-
خیبر پختونخوا میں بھی احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ وفاق آئین پاکستان میں دیے گئے حقوق ادانہیں کررہا ، جس سے صوبہ کے معاشی مسائل میں اضافہ ہواہے۔ آئین کی دفعہ 158،180اور 161پر عمل کیاجائے۔جس سے نہ صرف پختونخوا میں خوشحالی آئے گی بلکہ وفاق بھی مضبوط ہوگا۔ گیس ،تیل ، این ایف سی ایوارڈ کے اجراء اور بجلی کے خالص منافع جیسے مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل نکالاجائے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کااجلاس اظہار کرتا ہے کہ:
-
افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی اور اعتماد کے بحران کا باعث ناکام خارجہ پالیسی ہے۔ خطہ میں بھارتی مکروہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی کامیابی ،دہشت گردی کے خاتمہ اور اقتصادی استحکام کے لیے پاکستان ، افغانستان ، ایران اور ترکی کے درمیان پائیدار، مستحکم با اعتماد تعلقات ناگزیر ہیں ۔ امریکا اورنیٹو فورسز کے خلاف سابقہ وزیراعظم افغان عوام کی فتح کو تسلیم کرلیتے تو بے اعتمادی کی خلیج پیدانہ ہوتی۔ افغانستان سے تعلقات میں سردمہری اورکشیدگی کے خاتمہ کے لیے ترجیحی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہونے والی خوفناک تباہی پر ہمارے دل ملول اور افسردہ ہیں ۔ ہم اپنے ترک اور شامی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ان کی امداد و اعانت کے لیے پُر عزم ہیں۔ حکومتی نمائندوں ،الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر سماجی اداروں کے ریلیف کے کام کی تحسین کرتے ہیں۔مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس ملک و ملت کو درپیش بحرانوں کے حل کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کرتا ہے کہ:
-
ملک میں افراتفری ، مفاد پرستی اور لاقانونیت کی بنیادی وجہ بے لاگ احتساب کی ناکامی ہے۔ احتساب کے نظام کاپسند و ناپسند پر استوار ہونااور سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کرپشن کے بڑھاؤ اور کرپٹ مافیا کوکھلی چھٹی کے مترادف ہے۔ احتساب سب کا ، آئینی ، قانونی اور عدل کی جوہری طاقت سے ہی ممکن ہے قانون اور انصاف کی بنیاد پر احتساب کانظام پاکستان کی عزت ، وقار ، خو دمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
-
دینی ، سیاسی ، قومی قیادت ضد ،انا ، ہٹ دھرمی کی روش ترک کرے ، عوام کو درپیش ہولناک مسائل کا ادراک کرے ، اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی طاقت کے شکنجہ کو توڑ نے کے لیے ذاتی ،گروہی اور پارٹی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ کاراستہ اختیار کیاجائے۔ سیاسی قیادت اپنی اہلیت ثابت کرے حالات کو بند گلی کی طرف نہ دھکیلا جائے ۔
-
سیاسی مسائل کاسیاسی حل تلا ش کیاجائے ۔ ہر سیاسی ایشو کو سپریم کورٹ لے جانے سے سیاست کمزور اور عدلیہ متنازعہ ہو رہی ہے ۔ ریاستی نظام کے لیے آئین ، قرآن و سنت کی بالادستی تسلیم کی جائے اور اسلامی جمہوری پارلیمانی اقدار کی حفاظت کی جائے۔
-
عام انتخابات کا بروقت انعقاد ہی تمام بحرانوں سے نجات کاپائیدار حل ہے۔ صرف پنجاب اورخیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90دن میں انتخاب لازم ہیں لیکن سیاسی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب قومی اسمبلی ، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کوتحلیل کرکے پورے ملک میں ایک دن انتخابات کرائے جائیں ۔بصورت دیگر 2013ء اور2018ء کی طرح 2023ء کے انتخابات بھی آئین سے ماورا اقدام کاسبب اور متنازعہ بن جائیں گے۔
-
سیاسی جمہوری اور قومی قیادت انتخابی اصلاحات ، متناسب طرز انتخاب اور منصفانہ ،غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے کردار ادا کرے۔
-
اقتصادی بحران عام ،غریب اورسفید پوش آدمی کے لیے جان لیوا ہے ، آئی ایم ایف کی خوفناک شرائط ملک کو دیوالیہ کردیں گی۔ اتحادی حکومت مکمل ناکام ہے جبکہ پی ٹی آئی دور اقتدار نے اقتصاد ی تباہی کی بنیادرکھی ۔اب قومی میثاق معیشت ناگزیر ہے کوئی ایک پارٹی یا تنہا ریاستی ادارے معاشی بحران پر قابو نہیں پاسکتے ، سود کا خاتمہ اور خود انحصاری کی بنیاد پر قومی اتفاق رائے ہی نجات کاراستہ ہے۔
-
اب عوام نہیں کرپٹ اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی۔ 18خاندانوں کے 4000ارب روپے عوام کے حق پر ڈاکہ کامال مسروق ہے عوام اپنا حق واپس لیں گے۔
-
سندھ حکومت خصوصاً پی پی پی قیادت کراچی میں عوامی مینڈیٹ میں ردو بدل کرنے کی روش ترک کرے ، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیاجائے ، ووٹوں اور سیٹوں کے اعتبار سے جماعت اسلامی کی نمبر ون پوزیشن تسلیم کی جائے ۔ سندھ حکومت جعلی مینڈیٹ سے کراچی کو فتح نہ کرے ۔ تمام اسٹیک ہولڈرز تسلیم کرلیں کہ کراچی کے مسائل کا حل جماعت اسلامی ہے۔

