آذربائیجان نے کہا ہے کہ ہم، ایران پر کسی ممکنہ اسرائیلی حملے میں، اسرائیل کو اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اسرائیل کے روزنامے ‘دی یروشلم پوسٹ’ کے لئے انٹرویو میں آذربائیجان کے تل ابیب کے سفیر مختار ممدوف نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی ، اسرائیل سے وسیع پیمانے کی اسلحہ درآمد کے بدلے میں آذربائیجان فوجی آپریشنوں کے دوران اسرائیل کی مدد کے لئے ایئرپورٹ تیار کر رہا ہے جیسی، خبروں کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "آذربائیجان نے آغاز سے ہی واضح کر دیا تھا کہ ہم کسی ملک کے داخلہ معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور ہماری زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی کیونکہ ہم بھی دیگر ممالک سے یہی توقع رکھتے ہیں”۔
ممدوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کے اس موقف سے برعکس سب دعوے غیر حقیقی اور بے بنیاد ہیں۔ اسرائیل سے اسلحے کی درآمد معمول کی بات ہے۔ ہر ملک اپنی زمینی سالمیت اور شہریوں کی خودمختاری کے تحفظ کا ذمہ دار ہے اور آذربائیجان اس ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں ہے۔اسرائیل بھاری مقدار میں اسلحہ پیدا کرتا ہے لہٰذا اس سے اسلحے کی خرید معمول کی بات ہے”۔
واضح رہے کہ آذربائیجان نے 27 ستمبر 2020 میں شروع ہونے والی 44 روزہ دوسری جنگِ قارا باغ میں اپنے علاقوں کو آرمینیا کے 30 سالہ قبضے سے آزاد کروا لیا تھا۔
اس تاریخ کے بعد سے آذربائیجان کے لئے ایران کے روّیے اور سرحد پر فوجی مشقوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
آذربائیجان کی طرف سے، ایران کی "نارمل” قرار دی گئی، مشقوں کا ادراک بطور طاقت کے مظاہرے اور آرمینیا کے ساتھ تعاون کے کیا گیا اور ان مشقوں کو سرحدی علاقے میں تبدیلی کے ناقابلِ قبول ہونے کا پیغام سمجھا گیا تھا۔
