کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس سابق وزیراعظم اورتحریک انصاف کے چیئرمین عمران کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار نہ کرسکی جبکہ زمان پارک کے قریب مسلسل دوسرے روزبھی حالات بدستور کشیدہ ہیں اور پی ٹی آئی کے حامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپیں بند ہوئی تھیں لیکن پولیس کے پیش قدمی کرنے پر حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جا رہا ہے۔ پولیس عمران خان کو گرفتار کرنا چاہتی ہے لیکن پی ٹی آئی کارکن انہیں ایسا کرنے سے روکے ہوئے ہیں۔
پولیس آپریشن کو 18 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ تین اضلاع کی پولیس آپریشن میں حصہ لے رہی ہے۔ رینجرز کے دستے بھی مال روڈ پر موجود ہیں۔ زمان پارک کے اردگرد پولیس کی اضافی نفری موجود ہے جبکہ قصور، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ سے پولیس کی بھاری نفری زمان پارک پہنچی۔
پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے ڈی آئی جی اسلام آباد شہزاد بخاری سمیت 50 سے زائد پولیس اہلکار اور دیگر افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بھی جوابی ایکشن لیا اور کارکنوں پر لاٹھی چارج، پانی کی توپ سے دھلائی اور شیلنگ کی۔ کچھ شیل عمران خان کے گھر کے اندر بھی گرے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کو گرفتار کر کے لیے اسلام آباد سے جانے والی ٹیم کے تمام اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس ٹیم کے تمام زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشن شہزاد ندیم کو سر اور پاؤں پر شدید چوٹیں آئیں۔ ڈی آئی جی شہزاد ندیم کے زخمی ہونے پر ٹیم کو لیڈ کرنے والے ایس پی بھی زخمی ہوئے۔ایس ایچ او سیکریٹیریٹ ندیم طاہر بھی پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔
آج صبح عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ پیرا ملٹری پنجاب رینجرز کے دستے زمان پارک کے باہر تعینات پولیس کی جگہ سیکیورٹی کے فرائض سنبھال رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ ان کے حامیوں کو اس سے قبل براہ راست گولہ بارود کے ساتھ ساتھ ربڑ کی گولیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
After our workers ldrship faced police onslaught since yesterday morning of tear gas, cannons with chemical water, rubber bullets live bullets this morning; we now have Rangers taking over are now in direct confrontation with the people. My question to the Establishment,
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) March 15, 2023
اپنے ٹویٹس میں خان نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی “غیرجانبداری” پر افسوس کا اظہار کیا اور موجودہ پی ڈی ایم حکومت کو “بدمعاشوں کو اغوا کرنے اور ممکنہ طور پر قتل کرنے کی کوشش کرنے والے” قرار دیا۔
to those who claim they are "neutral”: Is this your idea of neutrality, Rangers directly confronting unarmed protestors ldrship of largest pol party when their ldr is facing an illegal warrant case already in court when govt of crooks trying to abduct possibly murder him?
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) March 15, 2023
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی درخواست اور اعتراضات پر آج سماعت کرے گی جبکہ سیشن عدالت کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی کے کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری 16 مارچ تک معطل ہونے کا تحریری حکم بھی جاری کردیا گیا۔
