English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عمران خان کے حامیوں اور پولیس کے درمیان گزشتہ رات سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری

القمر

پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں اور پولیس کے درمیان گزشتہ روز شروع ہونے والی جھڑپیں آج بھی جاری ہیں۔

سابق وزیراعظم عمران خان  جن کے بارے میں    مقدمے کی سماعتوں میں شرکت  نہ کرنے کی  بنا  پر حراست میں لینے کا حکم دیا گیا تھا   کی گرفتاری  کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے رات بھر جاری رہے۔

لاہور میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 33 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف  کے رہنما  عمران خان نے اپنے  ٹوئٹر پر کہ ہے کہ  حکومت کا اصل ارادہ انہیں گرفتار کروا کر قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پنجاب پولیس کے چیف عثمان انور نے پی ٹی آئی کے حامیوں کو خبردار کیا کہ اگر تشدد جاری رہا تو وہ سخت اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

صدر مملکت عارف علوی نے بھی عمران خان کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں 13 مارچ کو دو مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں خان پر بطور وزیر اعظم اپنی مدت ملازمت کے دوران غیر ملکی سیاستدانوں سے تحائف فروخت کرنے اور اگست 2022 میں ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ  چل رہا ہے۔

عمران خان کے  دونوں سماعتوں میں شرکت نہ کرنے کے بعد  دو     الگ الگ وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئےہیں۔

عمران خان پر اپنی  وزارت عظمیٰ کے  دور  میں   غیر ملکی سیاستدانوں کے تحائف فروخت کیے جانے  کے الزام  میں  29 مارچ کو سماعت کے لیے  پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس کے علاوہ عمران خان  پر   ایک  خاتون جج کو دھمکیاں دینے کےالزام میں بھی  وارنٹ گرفتاری  جاری کیے گئے تھے جبکہ عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری کو 16 مارچ تک معطل کر دیا تھا ۔

صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی ایک عدالت نے بھی  9 مارچ کو خان ​​کے ریاستی اداروں اور اہلکاروں کے خلاف بیانات اور امن عامہ کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرنے پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےجبکہ عمران خان کے ان الزامات پر اعتراضات  پر  ہائی کورٹ نے   2 ہفتوں کے لیےگرفتاری کو معطل کردی تھا۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے