فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف احتجاج کے دوران 111 افراد کو حراست میں لے لیا گیاہے۔
تعلیم، توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں کے ملازمین نے ملک بھر میں حکومت کی پنشن اصلاحات کے خلاف ہڑتال جاری رکھی ہوئی ہے۔
دارالحکومت پیرز اور ملک کے 370 مقامات پر ریٹائرمنٹ مخالف مظاہرے جاری ہیں۔
پیرس میں ہونے والے مظاہرے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقتاً فوقتاً کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
Unyielding France (LFI) پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار Jean-Luc Melenchon نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ہے۔
مظاہرین نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے سر کے ماڈل کو کوڑے کے ڈرم پر سجا رکھا تھا۔
قافلےکے لا روٹونڈےریسٹوران کے سامنے پہنچنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
میکرون نے اس ریستوراں میں 2017 کے صدارتی انتخابات میں اپنی کامیابی کا جشن منایا تھا۔
پیرس میں،متعدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراو کیا ، بینک اور ایک اسٹور کی کھڑکیوں کو توڑ دیا، اور کئی عوامی املاک کو نذر آتش کردیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔
فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے ٹویٹر پر کہا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں اب تک 154 سکیورٹی اہلکار زخمی اور 111 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
جب کہ مختلف لیبرز یونینوں نے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 20 لاکھ افراد کے شریک ہونے اور مزید فرانسیسیوں کے سڑکوں پر آنے اور 13 اپریل کو دوبارہ ہڑتال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت داخلہ پر مبنی مقامی پریس کے اعداد و شمار کے مطابق فرانس بھر میں ہونے والے مظاہروں میں 570,000 افراد نے شرکت کی۔
فرانس میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو مزید 2 سال بڑھا کر 62 سے 64 کرنے پر 16 مارچ کوپارلیمنٹ میں بغیر ووٹنگ کے بل پاس کرنےپر شروع ہونے والے مظاہرے جاری ہیں۔
ملک کے کئی حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھرپیں جاری ہیں اور پولیس تشدد کرنے کی رپورٹس بھی مل رہی ہیں۔
16 مارچ سے ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
