امریکہ کے صدر جو بائڈن، جنوبی کوریا کے صدر یون سک۔ییول اور جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدہ جاپان کے شہر ہیرو شیما میں ملاقات کریں گے۔
ایک امریکی ذریعے نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے جاپان کی خبر رساں ایجنسی کویوڈو کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر بائڈن، 19 تا 21 مئی کو جاپان کے شہر ہیرو شیما میں متوقع جی۔7 سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس دوران جنوبی کوریا کے صدر یون اور جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کریں گے۔امریکی ذریعے نے متوقع سہ فریقی ملاقات کی تاریخ کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ جاپان کے وزیر اعظم کیشیدہ فومیو اور جنوبی کوریا کے صدر یون سک۔ییول نے مارچ میں ٹوکیو میں ملاقات کی تھی۔
ملاقات کے بعد یون نے شمالی کوریا کی طرف سے میزائل خطرات کاذکر کیا اور کہا تھا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار اور میزائل بنانا کوریا جزیرہ نما اور شمال مشرقی ایشیاء کے امن کے لئے خطرناک ہو گا۔
امریکہ کے صدر جو بائڈن نے بھی 26 اپریل کو وائٹ ہاوس میں صدر یون کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کا امریکہ یا پھر اس کے اتحادیوں پر حملہ ناقابل قبول ہو گا۔ ایسا اقدام، خواہ کسی بھی حکومت نے کیا، اس کا اختتام ثابت ہو گا۔
بائڈن نے دو طرفہ دفاعی سمجھوتوں پر بات کی اور یقین دہانی کروائی تھی کہ ہم، شمالی کوریا کی جوہری کاروائیوں کا مقابلہ کوریا جزیرہ نما میں جدید جوہری مزاحمت سے کریں گے۔ اس حوالے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان "واشنگٹن ڈکلیریشن” طے پا گیا ہے اور جوہری خطرے کے مقابل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے لئے جوہری اتحاد گروپ NCG قائم کیا جائے گا۔
