اقوام متحدہ نے اطلاع دی ہے کہ بحیرہ اسود کے اناج راہداری معاہدے کے تناظر میں مشترکہ رابطہ مرکز میں نگرانی کا عمل دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اتوار اور پیر کو نگرانی نہیں ہو سکی اور یکم مئی سے اس عمل کی شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 2.9 فیصد تک گر گئی ہے۔
حق نے بتایا کہ ترکیہ کے سمندروں میں اس وقت 26 بحری جہاز موجود ہیں اور ان میں مجموعی طور پر 1 ملین 157 ہزار 974 ٹن اناج اور خوردنی اشیاء لدی ہوئی ہیں۔
روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی جانچ پڑتال کل دوبارہ شروع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے، فرحان حق نے کہا، "اقوام متحدہ اور ترکیہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ بحری جہازوں کی آمدورفت کو سہل بنایا جا سکے۔”
حق نے مزید بتایا کہ اس اقدام کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے اور استنبول میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مارٹن گریفتھس، ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کوآرڈینیٹر، اقوام متحدہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور ان کی ٹیم اس اقدام کو جاری رکھنے کے لیے بہت محنت کر رہی ہے، فرحان حق نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ابھی تک اناج کے اقدام کو جاری رکھنے کے حوالے سے گوٹیرس کے خط کا باضابطہ طور پر جواب نہیں دیا ۔
