اینٹی کرپشن پنجاب نے سابق وفاقی وزیر پی ٹی آئی زرتاج گل کو کل گیارہ مئی صبح 10 بجے دوبارہ طلب کرلیا۔
تحریک انصاف کی سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کو اینٹی کرپشن پنجاب نے اس سے قبل 19 اپریل کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہ ہوئیں۔زرتاج گل نے اپنے حلقہ میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مختلف منصوبوں کے ٹھیکے اپنے فرنٹ مینوں کو دیئے اور مارکیٹ سے کم ریٹ پر دیئے۔
زرتاج گل اور ان کے خاوند ہمایوں رضا اخوند نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ان منصوبوں کو ریوائزکروایا اور ان کی لاگت دوگنا کروائی۔زرتاج گل اور ان کے خاوند ہمایوں رضا نے منصوبوں کو ریوائز کروا کر سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگایا۔
سابق وفاقی وزیر زرتاج گل نے تمام منصوبوں کے ٹھیکے اپنے فرنٹ مینوں کو دے کر بھاری رشوت وصول کی۔زرتاج گل نے منظورشدہ منصوبوں کے پلان میں ازخود تبدیلی کرکے اپنے گھر اور سیکرٹریٹ کو پختہ سڑک سے منسلک کیازرتاج گل نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں میں ناقص میٹریل اور کام مکمل ہونے سے پہلے ہی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں
اینٹی کرپشن نے زرتاج گل، ان کے خاوند ہمایوں رضا اخوند، پرائیویٹ محمود بھٹی کو 11 مئی کو طلب کر لیا،ایکسیئن پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈی جی خان، ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈی جی خان، سب انجینئرمتعلقہ سکیمز پبلک ہیلتھ ڈی جی خان کو 11 مئی کو صبح 10بجے طلب کرلیا۔
