روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اورانہوں نے تجارت اور مالی پالیسیوں میں واضح کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
"روس ان ممالک کے ساتھ ممکنہ وسیع تر تجارتی اور انسانی تعاون کے لیے کھلا ہے۔”
روسی صدارتی محل کریملن نے "روس-مسلم ممالک :قزان فورم 2023” کے موقع پر پوتن کا پیغام شائع کیا، جہاں روس کے اقتصادی نمائندے اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک یکجا ہوں گے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ روسی فیڈریشن کی جمہوریہ تاتارستان کے دارالحکومت قزا ن فورم کے دائرہ کار میں بہت سے غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی کرے گا، پوتن نے کہا،”روس کے روایتی طور پر مسلم ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ اور او آئی سی کے تعاون سے قریبی اور پر اعتماد تعلقات استوار رہے ہیں۔”
مذکورہ تعلقات کے شراکت داری اور دو طرفہ احترام پر مبنی ہونے کی وضاحت کرنے والے پوتن نے بتایا کہ "ہم بین الاقوامی قانون پر مبنی ایک زیادہ منصفانہ، کثیر قطبی عالمی نظام کے لیے اپنی وابستگی کے ساتھ متحد ہیں۔ آج، اسلامی ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، تجارت اور مالیات، اختراعات اور عملی تحقیق میں ٹھوس کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون۔ اور تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، نئے شراکت داروں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، زرعی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور نئی لاجسٹک چینز بنانا چاہتے ہیں۔”
روسی رہنما نے بتایا کہ "روس۔ مسلم ورلڈ سٹریٹیجک وژن گروپ اور قزان فورم کی سرگرمیاں ، روس اور مسلم ممالک کے کاروباری حلقوں کو مزید تقویت دیں گی، اور مجھے یقین ہے کہ علاقوں اور حکومتوں کے درمیان مشترکہ منصوبو ں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔”
قزان فورم کا انعقاد 18 تا 20 مئی ہو گا۔
