اسلام آباد: انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے پاکستانی حکام سے سیاسی اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہام شہریوں کامقدمہ فوجی عدالتوں یا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں نہ چلایا جائے سیاسی مقاصد کیلئے فوجداری قوانین اور مبہم انسداد دہشت گردی کی دفعات کا سہارا نہ لیا جائے، انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے پاکستان میں کئی سالوں سے اختلاف کرنے والی آوازوں کو سزا دینا تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کو اب ختم ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایکوئڈیم، سی آئی آئی سی یو ایس اور فورم ایشیا کے مشترکہ اعلامیہ کی کاپی جاری کردی گئی۔ صحافی عمران ریاض کی بازیابی سمیت پرامن احتجاج میں شامل تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ ہر گرفتار شدہ شخص مقامی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ضمانت یافتہ تحفظات کا حقدار ہے، گرفتار افراد کو قانون، بشمول جج یا اہلکار کے سامنے اپنے کیس کی فوری سماعت کرنے کا حق دیا جائے، گرفتار افراد پر لگے الزامات سے انھیں آگاہ کیا جائے اور ان سے انسانیت اور وقار کے ساتھ برتا کیا جائے، عدالتیں کوشش کریں کہ وہ خودمختار اور غیرجانبدار ہوں۔ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے پرامن احتجاج کے آئینی حق کو تسلیم کرے۔
اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے ریاستی فریق کے طور پر پرامن احتجاج کے خلاف جاری کریک ڈان ان معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
