اسلام آباد، لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی اور ابرار الحق نے بھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کے قریبی ساتھی سیف اللہ نیازی نے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی صحت پر فوکس کرنا ہے۔
سیف اللہ نیازی نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اور معروف گلوکار ابرار الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی ہے جو سیاسی اور فوجی گھرانہ تھا ۔ بانگ درا اور بال جبریل پڑھنا ہمارے لیے ضروری ہوتا تھا ۔ راشد منہاس شہید اور میجر عزیز بھٹی شہید ہمارے ہیرو تھے ۔ خواہش ہوتی تھی کہ بڑے ہو کر فوج میں جائیں گے اور شہادت کا رتبہ حاصل کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ فوج اور شہدا کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی رہی ہے ۔ حج کرنے کے لیے خانہ کعبہ گیا تو کوئی اور دعا کرنے کے بجائے شہادت کی دعا مانگی۔ پاکستان کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ ہمیشہ سے تھا ۔ سیاست میں آنے کا مقصد یہ تھا کہ بڑا سوشل کام کروں گا جس کا فائدہ عوام کو ہوگا ۔ سیاست میں سوشل کام کرنے کا خواب پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ مزید وقت کیوں ضائع کرو جو عوام کی خدمت کرنے میں معاون ثابت نہ ہو سکے ۔
ابرار الحق کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعہ کی ہر ایک نے مذمت کی ہے ۔ میرے ساتھ بیٹھے بھی گواہ ہیں کہ میں نے اس وقت بھی تقریر کی جس میں 9 مئی کے واقعہ کی پرزور مذمت کی۔ ہمیں ہمارا دین بہت کچھ سکھاتا ہے ۔ سوشل ورک میرے لیے اتنا اہم ہے کہ اس کے لیے سیاست بھی چھوڑی جاسکتی ہے ۔ یہ ملک وسائل سے مالا مال ہے اس کے لیے ہمیں بہت کچھ کرناکرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کی ترجیح سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہیے۔ میں ہر طرح سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرتا ہوں ۔ پریس کانفرنس میں ابرار الحق نے پاک فوج کے حق میں ملی نغمہ بھی سنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو کارکنان بے گناہ ہیں انہیں فوری طور پر چھوڑ دینا چاہیے اور جو گنہگار ہیں انہیں ضرور سزا ملنی چاہیے۔
