اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ماحولیات کی بہتری انسانوں کی اجتماعی بقاکا مسئلہ ہے، اجتماعی کوششوں سے ہی اس چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بائیو ڈائیورسٹی کا تحفظ نوجوان نسل اپنی زندگی کا مشن بنائیں، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لانے سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اپنے جاری پیغام میں کہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میرین لائف، مائیکرو آرگن ازمز، پلانٹس، فنگائی اور ہر طرح کے جانوروں کا تحفظ زندگی کا تحفظ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور بچوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کی فورس بننا ہوگا۔ پلینیٹ ارتھ کی بقاکے لئے کام کرنا آنے والی نسلوں کی زندگی کا سوال ہے، ہر اس چیز کا استعمال بتدریج ختم کرنا ہے جس سے ماحول کو ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ رواں سال یکم اگست سے اسلام آباد سے پلاسٹک سے بنی ڈسپوزیبل اشیاکے خاتمے کی مہم شروع کی جا رہی ہے جو احسن قدم ہے۔ پلاسٹک شاپنگ بیگ، پلیٹ، چمچ، کانٹے، ڈبے، کپ، پیالے، چھری اور اسی طرح کی ایک بار استعمال کی اشیاکا مرحلہ وار خاتمہ اولین ترجیح ہے، اسٹرا، پلاسٹک کے ڈھکن والی اشیااور مشروبات کے لئے پلاسٹک لفافوں کا استعمال بھی بتدریج ختم کرنا ہے۔ آج پلاسٹک اور اس سے بنی اشیاسے پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی ختم کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔
