اسرائیل مسلح افواج نے کہا ہے کہ مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر منّظم حملے "قومیت پرستانہ دہشت گردی "ہے اور ہم اس کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
اسرائیل مسلح افواج کے سربراہ ہرزی ہلیوی، داخلہ خفیہ ایجنسی شِن۔بیت کے سربراہ رونان بار اور اسرائیل پولیس کے سربراہ کوبی شابتائی نے مشترکہ تحریری بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سےکئے گئے اور بیسیوں گاڑیوں اور مکانات کے خاکستر ہونے کا سبب بننے والے منّظم حملوں کو "قومیت پرستانہ دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ” حالیہ دنوں میں اسرائیلی شہریوں کی طرف سے یہودیہ اور سامیریئہ میں معصوم فلسطینیوں پر کئے گئے حملے اخلاقی اور یہودی اقدار کے منافی ہیں اور قومیت پرستانہ دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہم اس کے خلاف جدوجہد کرنے پر مجبور ہیں”۔
بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ان باغیوں کے خلاف جدوجہد کرے گی اور تشدد میں ملّوث یہودی آبادکاروں کی گرفتاریوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
واضح رہے اسرائیلی فوج کی زیرِ حفاظت یہودی آبادکار بدھ کے روز سے اب تک دریائے اردن کے مغربی کنارے کےشہروں رملّہ اور نابلوس کے جوار میں فلسطینی علاقوں پر منّظم حملے کر رہے ہیں۔ حملوں میں فلسطینیوں کے بیسیوں گھر اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دی گئی ہیں۔
