کراچی:امیرجماعت اسلامی و صدر الخدمت کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ الخدمت کراچی اور اندرون سندھ سمیت ملک بھر میں بلا تفریق رنگ و نسل اور کسی بھی علاقے ، زبان اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کیے بغیر ضرورت مندوں ، سیلاب اور آفات کے متاثرین کی مدد کرتی ہے ، عوامی خدمات آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔
ادارہ نور حق میں الخدمت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور عوامی خدمات ، رفاہی و امدادی سرگرمیوں اور اہل کراچی کو درپیش مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں الخدمت کے ہزاروں رضا کاروں نے بلا معاوضہ خدمات انجام دیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ متاثرین کی مدد کی اور 35خیمہ بستیاں لگائیں ، اندرون سندھ جب سیلاب آیا تو جماعت اسلامی نے اپنی تمام تر سرگرمیاں ریلیف ورک کے لیے وقف کر دیں اور ادارہ نور حق امدادی سامان کی آمد اور روانگی کا بہت بڑا مرکز بن گیا اطراف کی تمام گلیاں سامان سے بھر گئیں ۔
انہوں نے کہاکہ روزانہ بڑی تعداد میں ٹرک روانہ کیے گئے جبکہ سندھ حکومت نے سیلاب زدگان کے لیے مختص اربوں روپے کا بجٹ اپنی کرپشن اور نا اہلی کی نذر کر دیا اور اندرون سندھ متاثرین کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ۔ضلع تھر پار میں الخدمت کے تحت 2850کنویں کام کر رہے ہیں ، پیپلز پارٹی بتائے کہ سندھ حکومت نے اندرون سندھ پانی کے لیے کتنے کنویں کھدوائے ، کراچی کے عوام کا سب سے بڑ مسئلہ پانی کا ہے ، پیپلز پارٹی 15سال سے سندھ حکومت میں ہے لیکن K-4کا منصوبہ تاحال نا مکمل ہے ، نعمت اللہ خان کے دور میں شروع کیا گیا K-4کا منصوبہ اگر بروقت اور اپنی اصل گنجائش 650ملین گیلن کے مطابق مکمل کر لیا جاتا تو آج اس کی لاگت میں اضافہ ہوتا نہ شہر میں پانی کا موجودہ سنگین بحران پیداہوتا ۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ الخدمت کے تحت بنو قابل پروگرام میں ہزاروں طلبہ وطالبات کو فری آئی ٹی کورسز کروائے جارہے ہیں۔ اگست میں پہلا بیچ کا کورس مکمل ہوگا، الخدمت اہل خیر افراد اور عوام کے تعاون سے ہی اپنی امدادی سرگرمیاں اور عوامی خدمات ادا کر رہی ہے ، امانت اور دیانت الخدمت کا خاصہ ہے اور عوام بھی اسی وجہ سے الخدمت پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ الخدمت کو دیئے گئے عطیات مستحقین تک لازمی پہنچیں گے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ الخدمت کے پاس سالانہ آڈٹ رپورٹ موجود ہے جس میں ایک ایک روپے کا حساب درج ہے ۔ تمام حسابات اور اکائونٹس تصدیق شدہ ہیں جنہیں کوئی بھی چیک کر سکتا ہے، کسی بھی حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ شہریوں کو تعلیم ، صحت ، بجلی ، پانی ، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بنیادی ضروریات ِ زندگی اور سہولیات فراہم کرے لیکن بدقسمتی سے 76سال سے ملک میں آنے والی تمام حکومتیں اپنی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام رہی ہیں کیونکہ ایک مخصوص طبقہ اشرافیہ اور چند لوگ حکمران رہے ہیں جنہیں عوامی مسائل سے کبھی کوئی سرو کار نہیں رہا ۔
