جرمن حکومتی ذرائع کے مطابق صدر رجب طیب ایردوان کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد برلن ، یورپی یونین (EU) اور ترکیہ کے درمیان سیاسی مذاکرات کو بحال کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے آپشنز پر غور کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
29تا30 جون کو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہونے والی یورپی یونین کے رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس کا جائزہ لینے والے ذرائع کے مطابق سربراہی اجلاس میں یوکرین اور امیگریشن کے مسائل رہنماؤں کے ایجنڈے میں ہوں گے۔
رہنما یورپی یونین اور ترکیہ تعلقات اور قبرص میں حل کی کوششوں پر بھی بات چیت کریں گے۔
حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق جرمنی سربراہی اجلاس میں ترکیہ کے بارے میں جائزہ لینے کا نیا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کرے گا اور یورپی کمیشن اور اعلیٰ نمائندے ترکیہ کے ساتھ تعاون کے آپشنز پر نئی تجاویز تیار کر کے رہنماؤں کے سامنے پیش کریں گے۔ حکام کے مطابق ترکیہ کے ساتھ تعلقات جرمنی کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ترکیہ، جو کہ اپنی تجارت، سلامتی اور نقل مکانی کی پالیسیوں کے ساتھ عمومی جیوسٹریٹیجک صورتحال میں ایک اہم شراکت دار ہےتعلقات کو فروغ پانے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ذرائع ترکیہ، یونان اور یونانی قبرصی انتظامیہ (جی سی اے) کے انتخابات کے بعد قبرص کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی زیر قیادت عمل کی بحالی کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اس معاملے کو حتمی اعلامیہ میں شامل کیا جائے گا۔ کونسل آف یورپ اور یورپی یونین ان مذاکرات کی حمایت کریں گے۔
حکام کے مطابق جرمنی، ترکیہ میں انتخابات کے بعد یورپی یونین اور ترکیہ کے تعلقات کو دوبارہ ایجنڈے میں لائے گا، ذرائع کے مطابق تعلقات کو بحال کرنے والے اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ترکیہ اپنے ہمسایہ ممالک جیسے شام، ایران، عراق اور آرمینیا کے ساتھ ایک انتہائی اہم خطے میں واقع ہے، ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ کے ساتھ نہ صرف دوطرفہ بلکہ باہمی طور پر بھی اعلیٰ سطحی اور قریبی مذاکرات کی ضرورت ہے۔
