کراچی: امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر سویڈن میں حکومتی سرپرستی و پولیس کے تحفظ میں اور عدالت کی اجازت سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف جمعہ کو پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں یوم مذمت اورملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں کراچی میں تقریباً 500مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
یہ مظاہرے شہر بھر میں بعد نماز جمعہ مساجد کے باہر اور اہم پبلک مقامات پر کیے گئے۔مظاہروں کے شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے،جن پر تحریر تھا کہ سویڈن میں سرکاری سرپرستی میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔
مظاہرین نے سویڈن حکومت کی سرپرستی میں ناپاک جسارت کرنے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور زبردست نعرے بھی لگائے اور بے حرمتی کرنے والے ملعون شخص کو سخت سزادینے کا مطالبہ کیا۔ شرکا نے علامتی طور قرآن پاک کے نسخے بھی ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔
مظاہروں سے جماعت اسلامی کے امرا اضلاع، نو منتخب ٹاؤن چیئر مین اور مقامی ذمے داران نے خطاب کیا اور کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے افراد بھی توہین قرآن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اسلام امن، محبت،رواداری کا درس دیتا ہے، اسلامی اصولوں کے مطابق قائم ہونے والی ریاست میں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو تحفظ دیا جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام میں ریاست کے ہر شہری کو مسادی حقوق حاصل ہیں اور غیر مسلموں کو بھی اپنی عبادات کی اجازت ہے۔ مغربی دنیا اور یورپ کو اپنے دہرے معیارات ترک کرنے چاہییں۔ ہولوکاسٹ پر تو بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن قرآن پاک اسلام اور نبی کریم ؐ کی ذات ِ اقدس کی توہین اور بے حرمتی کو اظہار آزادی کے نام پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے ایمان و عقیدے اور احساسات و جذبات کو مجروح کرنے والوں کو کھلی آزادی اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
احتجاج میں شریک افراد سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ضروری ہے کہ اس مذموم عمل کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کیے جانے چاہییں اور اقوام متحدہ میں کسی بھی مذہب کی کتابوں کو نذر آتش کرنے اور شعائر اسلام کی توہین کرنے کے عمل کو جرم قرار دیا جائے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروئی کی جائے۔
مظاہروں سے امرا اضلاع مولانا مدثر حسین انصاری، مولانا فضل احدحنیف، سید وجیہ حسن، فاروق نعمت اللہ،عبدالجمیل خان، محمد اسلام،محمد یوسف،سیف الدین ایڈوکیٹ، امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید، نائب امیر ضلع انجینئر عزیز الدین ظفر،جماعت اسلامی کے نومنتخب ٹاؤن چیئرمینز،چیئرمین نارتھ ناظم آباد ٹاؤن عاطف علی خان،چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد،چیئرمین لیاقت آباد ٹاؤن فراز حسیب،چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ،چیئرمین جناح ٹاؤن رضوان عبد السمیع،چیئرمین ناظم آباد ٹاؤن سید محمد مظفر،چیئرمین ماڈل کالونی ظفر احمد خان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔
جماعت اسلامی کے تحت ضلع غربی میں 50سے زائد مقامات پر مظاہرے ہوئے جن میں مومن آباد،منگھو پیر، اورنگی ٹاؤن، سیکٹر ساڑھے 11,اورنگی 12،اورنگی 13،اورنگی 14،قذافی چوک، ہریانہ کالونی، صادق آباد، غازیہ آباد شامل ہیں۔
ضلع کیماڑی کے تحت 100سے زائد مقامات اتحاد ٹاؤن، نیشنل چوک، جمعرات بازار، مفتی محمود چوک، بلال مسجد، جامعہ مسجد ابو ہریرہ، الیاس مسجد، ایوبیہ مسجد، قائم خانی چوک، 20 نمبر اسٹاپ، پٹھان کالونی میں جامع مسجد مدینہ، جامع مسجد، شاہی باوانی چالی، جامع مسجد سلطانی، الہٰی مسجد فرنٹیئرکالونی، جامع مسجد نور جہاں A بلاک، گلشن غازی یوسی 4،جامع مسجد نمرہ بلاک C، جامع مسجد صدیقیہ، عابدہ آباد یوسی 5، علاقہ خیبر کے تحت خالدبن ولیدمسجد، فردوس مسجد، مین خیبرچوک، قباء مسجد لیبر اسکوائر، محمدی مسجد گلبائی، صحرا مسجد شیرشاہ، غنی چورنگی، ملت ہوٹل بڑا بورڈ، پاک کالونی، میٹروول، بلدیہ ٹاون میں احتجاج کیا گیا۔
ضلع وسطی میں 50سے زائد مقامات مسجد طہٰ، مسجد الفلاح، صدیق اکبر، عثمان غنی، جامع مسجد ناظم آباد نمبر 1،جامع مسجد ناظم آباد نمبر 2،جامع مسجد ناظم آباد نمبر 3،جامع مسجد ناظم آباد نمبر 4، خیر العمل، مسجد قدوسیہ، مسجد عزیزیہ و دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے۔
ضلع وسطی گلبرگ کے تحت 30سے زائد مقامات جن میں مسجد فاروق اعظم نارتھ ناظم آباد، باب الجنت،غوثیہ، مصطفی، مسجد رضوان، مسجد نعمان، مسجد اقصیٰ، شفیق کالونی، ضلع کورنگی کے تحت 50سے زائد مقامات جن میں قیوم آباد، کورنگی کراسنگ، کورنگی 2نمبر مارکیٹ، ناصر جمپ، ڈھائی نمبر ڈبل روڈ، مسجد بیت الحمد، جمیل مسجد، پی این ٹی سوسائٹی مسجد یوسف، کورنگی ساڑھے تین،کورنگی پانچ، بسم اللہ چورنگی،مسجد نور ودیگر میں احتجاج کیا گیا۔
ضلع ملیر کے تحت 30سے زائد مقامات جن میں داؤد چورنگی، فیوچر موڑ، گیدڑکالونی، اولڈ مظفر آباد،شیر پاؤ کالونی، بھینس کالونی، شاہ لطیف ٹاؤن، گلشن حدید، مسجد قباء گلشن حدید، مرغی خانہ و دیگر۔ ضلع ایئرپورٹ کے تحت 30سے زائد مقامات، آرسی ڈی گراؤنڈ، ملیر سعود آباد، چمن کالونی، ٹینکی مارکیٹ، لیاقت مارکیٹ، ڈرگ روڈ، کالابورڈ، ملیر ہالٹ، جناح اسکوائر،کھوکھراپار، ملیر 15، رفاع عا، سوسائٹی، وائرلیس گیٹ شمسی مسجد پر مظاہرے کیے گئے۔
ضلع شرقی کے تحت 30سے زائد مقامات جن میں ابوالحسن اصفہانی روڈ، بلال مسجد، بیت المکرم،مسجد اقصیٰ، پی آئی اے سوسائٹی،کنیز فاطمہ،گلشن اقبال، گلستان جوہر،گلشن جمال و دیگر۔ضلع شمالی کے تحت 50سے زائد مقامات جن میں مسجد الہدی، مسجد عثمان،مسجد علی نارتھ کراچی،مسجد حذیفہ گلشن معمار،نیو کراچی، کالااسکول،نالہ اسٹاپ، یوپی موڑ، گودھرا، مسجد الاخوان، ناگن چورنگی پر احتجاج کیا گیا۔
ضلع قائدین کے تحت 15سے زائدمقامات جن میں شاہراء قائدین، نرسری، سبزی مندی،لائنز ایریا،پٹیل پاڑہ ودیگر،ضلع جنوبی کے تحت 50سے زائد مقامات جن میں پر لیاری، موسی لین، شاہ بیگ لین، دریاآ باد،آگرہ تاج، بہار کالونی،چاکیواڑہ م،کلاکوٹ،گارڈن،جامع کلاتھ، دیفنس، کلفٹن، کیماڑی، صدر،محمودآبادودیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے۔
