یورپی یونین کے انسداد مسلم نفرت اور امتیازی سلوک کوآرڈینیٹر ماریون لیس نے کہا کہ یونین کے پاس مسلم مخالف نفرت کے رجحان سے نمٹنے کے لیے ٹھوس منصوبے موجود ہیں ۔
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیز نے کہا کہ یورپ میں مسلم کمیونٹی وسیع اقسام کے ساتھ سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے اور یونین کے رکن ممالک میں مختلف تعداد، فیصد کے لحاظ سے مسلمان آباد ہیں۔
انہوں نے کہا اہم بات مسلمان یورپی یونین کی کمیونٹی ہمارے معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سویڈن میں قرآن کو جلانے کے بارے میں کہا کہ ہمارے پاس مسلم مخالف نفرت کے خلاف جنگ میں ٹھوس منصوبے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مسلم مخالف نفرت انگیز پالیسیوں کو مختلف شعبوں، تعلیم، سیکورٹی، امیگریشن اور بہت سے دوسرے روزگار کے شعبوں میں مرکزی دھارے میں لائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مختلف اداروں، سول سوسائٹی، شہریوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔ ہم شواہد پر مبنی پالیسی بنائیں گے اور شہریوں اور اداروں میں مسلم مخالف نفرت کے رجحان کے خلاف بیداری پیدا کریں گے۔
یورپی یونین نے ماریون لیز کو مسلم مخالف نفرت اور امتیازی سلوک کا آرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے ، یاد رہے یہ عہدہ 2 فروری سے خالی چلا آرہا تھا۔
یورپی یونین کو اس عہدے کو جب یورپ میں مسلم مخالف جذبات عروج پر تھے پر کے موقع پر خالی چھوڑنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
