English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بجلی کے ٹیرف میں اضافہ مسترد، عوام پر مزید بم نہ گرائے جائیں، حافظ نعیم

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے لیے دی گئی حکومتی درخواست کی نیپرا سماعت میں پیر کو آن لائن شرکت کی اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس کے ٹیرف میں اضافے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے، عوام پر مزید بجلی بم نہ گرائے جائیں، عوام کے اندر اب اتنی سکت نہیں رہی ہے کہ وہ اس اضافے کا بوجھ اُٹھا پائیں۔ سماعت میں چیئر مین نیپراتوصیف ایچ فاروقی بھی شریک تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے چیئر مین نیپرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارا موقف تو سن لیتے ہیں اور اس سے اتفاق بھی کرتے ہیں لیکن اقدامات اور فیصلے وہی کرتے ہیں جو حکومت چاہتی ہے، حکومت جو فیصلہ کرتی ہے اسے فوراً تسلیم کر کے عمل درآمد کروا دیا جاتا ہے، نیپرا صرف ربڑ اسٹیمپ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقات پر ٹیکس کیوں نہیں لگایا جاتا۔پاکستان میں سب سے پریشان طبقہ مڈل کلاس ہے،اس اضافہ کا بوجھ سب سے زہادہ شہری آبادی پر پڑے گا جو پاکستان کی معیشت چلانے والی آبادی ہے جو تنخواہ دار ہیں جو چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے لوگ ہیں یہ پہلے ہی بجلی کے بھاری بھاری بل ادا کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو سالانہ اربوں روپے کی دی جانے والی سبسیڈی کا کراچی کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں، کراچی کے عوام مسلسل لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں جبکہ مہنگی ترین بجلی صرف کے الیکٹرک سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ کے الیکٹرک کو دی جانے والی سبسیڈی عوام کے ٹیکسوں سے ہی دی جاتی ہے اور کراچی پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے اس کے باوجود یہاں کے عوام بجلی کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ وفاقی حکومت اور نیپرا عوام کے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

امیر جماعت کا کہنا تھ اکہ ایک طرف کے بجلی  کے ٹیرف میں اضافہ کر کے عوام پر مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اس کی طویل نا اہلی و ناقص کارکردگی اور عوام کو بلا تعطل اور سستی بجلی کی فراہمی میں ناکامی کے باوجود اس کے لائسنس میں 6ماہ کی عبوری توسیع کر دی گئی ہے، ہمارا واضح اور دو ٹوک موقف ہے وفاقی حکومت اور نیپرا اس کراچی دشمن اور عوام دشمن کمپنی کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اپنے پرانے اور فرسودہ پلانٹ چلا رہا ہے، لائین لاسز میں کمی اور ترسیلی نظام کو بہتر کرنے کے لیے بھی اس نے عملاً کچھ نہیں کیا۔ بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی عوام کے لیے ناممکن ہو گئی ہے جبکہ اووربلنگ کی شکایات بھی کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں اور ہر روز مختلف آئی بی سیز کے باہر کے الیکٹرک کے ستائے عوام کی بڑی تعداد اپنے بل درست کرانے اور دیگر شکایات درج کرانے آتی ہے جہاں ان کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز اور ناروا سلوک کیا جاتا ہے جسے روکنے والا کوئی نہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی پی پیز سے ملکی معیشت کو تباہ کرنے والے معاہدے کیے گئے آئی پی پیز کے خلاف سینیٹ کی انکوائری رپورٹ موجود ہے مگر آئی پی پیز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور سارا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے،حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی درخواست جمعہ کو جمع کروائی اور نیپرا نے فورا سماعت پیر کو ہی کرلی مگر جو فیصلے عوام کے حق میں آتے ہیں اسکے خلاف عدالتوں سے اسٹے آرڈرز لے لئے جاتے ہیں اور نیپرا اور اسکی قانونی ٹیم اس پر خاموش بیٹھ جاتی ہے او ر کئی کئی برس گزر جانے کے بعد بھی اس کا فالو اپ نہیں کیا جاتاپھر نیپرا کا ہمیں فائدہ کیا؟۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا 95 فیصد حکومت کے حق میں اور سماعت میں حصہ لینے والوں اور عوام کے حق میں دلائل دینے والوں کے خلاف فیصلہ دیتی ہے پھر اس نمائشی سماعت کا فائدہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ سبسڈی تو حکومت کی نااہلی کی وجہ سے دینے پڑتی ہے اگر 258 ارب روپے سالانہ سبسڈی کے الیکٹرک کو دیتے ہیں تو اس کی وجہ کے الیکٹرک کے پرانے و فرسودہ پلانٹس ہیں جس کی وجہ سے مہنگی بجلی بنتی ہے اور حکومت کوئی کاروائی نہیں کرتی بلکہ انکا لائسنس کی تجدید کردیتی ہے  پرانے پلانٹس پر مہنگی بجلی بنانے کی وجہ سے حکومت کو کے الیکٹرک کو سبسڈی دینی پڑتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ تو عوام کو سبسڈی دی جارہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے