اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتائج تین تین روز تک روک لیے جاتے ہیں اس لیے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ہر صورت رات 2 بجے تک نتائج ظاہر کرنے ہوں گے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا جہاں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ کچھ چیزوں میں ترمیم ہونی ہے جیسا کہ لفظ فاٹا ابھی تک الیکش ایکٹ کا حصہ تھا، حالانکہ 2018 میں اس کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا گیا تھا۔
وزیر قانون اعظم نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بہت اعتراضات ہوئے اور اس میں شفافیت کی کمی محسوس کی گئی تھی، حالانکہ 2017 کا الیکشن بڑی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ قانون میں ترامیم کرنی پڑتی ہیں، جب الیکشن کمیشن نے لکھا کہ کچھ جگہوں پر ترمیم ہونی ہے جس کے بعد آپ (اسپیکر) نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں تمام جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی تھی، ہم نے اس کمیٹی کے متعدد اجلاس کیے، 11 تاریخ کو تین گھنٹے کا سیشن ہوا، 12 تاریخ کو پھر اجلاس ہوا اسی طرح 13 جولائی اور 17 جولائی کو بھی اجلاس منعقد کیے تھے اور بلآخر 18 جولائی کے اجلاس میں رپورٹ تیار کرلی گئی۔

