جرمنی میں کابینہ نے بھنگ کے استعمال کی محدود قانونی حیثیت سے متعلق وزارت صحت کے تیار کردہ مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر صحت کارل لاؤٹرباخ نے دارالحکومت برلن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں "بھنگ کا کنٹرول شدہ استعمال” نامی بل کی تفصیلات متعارف کرائی ہیں۔
بل کے مطابق بھنگ کو منشیات کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ بالغوں کو 25 گرام تک بھنگ رکھنے اور ذاتی استعمال کے لیے 3 پودے اگانے کی اجازت ہوگی۔ نام نہاد "کینابس سوشل کلب”، جن کے زیادہ سے زیادہ 500 ممبر ہوں گے، بھنگ اگانے اور اپنے ممبروں کو بھنگ فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ ایک رکن اس ایسوسی ایشن سے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 50 گرام بھنگ خرید سکے گا۔
اسکولوں، کنڈرگارٹنز، کھیل کے میدانوں اور جمز کے 200 میٹر کے ایرا کے اندر بھنگ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 18 سال سے کم عمر کے افراد کے لیے بھنگ کا استعمال بھی ممنوع ہوگا۔
وزیر صحت لاؤٹرباخ نے کہا کہ یہ بل منشیات کی پالیسی کے لیے ایک اہم موڑ ہے جو ماضی میں ناکام ہو چکی ہے، اور اس کا مقصد بھنگ کے غیر قانونی استعمال اور جرائم کی شرح کو کم کرنا ہے۔
لاؤٹرباخ نے کہا کہ انہوں نے بل کے ساتھ بھنگ کے استعمال کو "کنٹرول شدہ قانونی حیثیت” کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم (ہیروین ) کے استعمال کو محدود کرنا اور اسے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
اس بل کو، جو سال کے آخر تک قانون بننے کا منصوبہ ہے، وفاقی پارلیمنٹ سے بھی اس کی منظوری لازمی ہے۔
