عالمی ادارہ صحت کی ہنگامی حالات کمیٹی نے، بچوں میں پولیو وباء کا خطرہ بدستور برقرار ہونے کی وجہ سے، پاکستان کی سیاحت پر پابندی میں مزید 3 ماہ کا اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے انٹر نیٹ صفحے سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق پاکستان میں پولیو کے خلاف جدوجہد کی مہم کوتاہیوں کا شکار ہے۔ ملک میں پولیو پھیلنے کا خطرہ بین الاقوامی صحت کے لئے ہنگامی حالات کی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاحت پر پابندی میں مزید 3 ماہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق ملک کے شمال مغربی صوبے خیبر پختون خوا میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین پلائی گئی ہے لیکن ملک میں "ویکسین کے بائیکاٹ اور سکیورٹی اندیشوں ” کی وجہ سے تاحال وباء پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔
بیان کے مطابق 2023 میں ملک میں WPV1 پولیو کیسوں کی تعداد 2 گنا ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 1994 میں پولیو کے خاتمے کی مہم شروع کی۔ مہم کے طفیل سالانہ 20 ہزار پولیو کیسوں کی تعداد 2017 تک کم ہو کر 8 کیسوں تک رہ گئی تھی۔ 2017 کے بعد ملک میں پولیو کیسوں میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور 2018 میں 12 کیس، 2019 میں 147 اور 2020 میں 84 پولیو کیس ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ 2022 میں پولیو کیسوں کی تعداد 20 رہی ہے۔
