English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فرانس: عبایا پہننے والی مسلمان طالبات متنازع حکومتی فیصلوں کے زیرعتاب

القمر

پیرس: فرانس میں عبایا پہننے والی مسلمان طالبات متنازع حکومتی فیصلوں کے باعث نئے مسائل میں پھنس گئیں، جو وہاں مقیم مسلم برادری کے لیے تشویش کا سبب بن رہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق فرانس میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا، تاہم ابتدا ہی سے عبایا پہن کر آنے پر پابندی کے متنازع فیصلے کے باعث مسلمان طالبات نئی مصیبت میں پھنس گئی ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے ایک ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اسکولوں میں عبایا پر پابندی عائد کر رہی ہے۔ اس سے قبل مسلم طالبات اور اساتذہ کو عبایا پہننے کی اجازت  تھی۔

عبایا پر پابندی کا اطلاق آج نئے تعلیمی سال کے آغاز سے ہوگیا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی افسران تعینات کیے گئے تھے۔ وزیر اعظم ایلزبتھ بورن نے اسکولوں کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج سب کچھ ٹھیک رہا۔ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ہم سارا دن چوکنا رہے اور طلبہ کو اس پابندی سے متعلق سمجھایا۔

فرانسیسی خاتون وزیراعظم نے مزید بتایا کہ کچھ اسکولوں میں لڑکیاں عبایا پہن کر پہنچی تھیں جن میں سے کچھ عبایا اتارنے پر راضی ہوگئیں اور باقی نے گھر واپس جانا بہتر سمجھا لیکن ہم ان سے بات کریں گے اور سمجھائیں گے۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ حکام نے 513 ایسے اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جو تعلیمی سال کے آغاز پر عبایا پابندی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ اسکول ہیں جہاں مسلم طلبا بھی پڑھتے ہیں۔

فرانس کی حکومت کے اس اقدام پر انتہاپسند دائیں بازو کے حامیوں کو خوشی ہوئی لیکن بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ شہری آزادی کی توہین ہے اور اس سے فرانس کے سیکولر ملک ہونے کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے