ترکیہ نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی 2022 ترکیہ رپورٹ غیر حقیقی الزامات اور مفروضات سے بھری ہوئی ہے۔
ترکیہ وزارت خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی مشورہ نوعیت کی ‘2022 ترکیہ رپورٹ’ 13 ستمبر کو یورپی یونین جنرل کمیٹی سے منظور ہوئی ہے۔ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ پارلیمنٹ کے اراکین ڈیلی پاپولر سیاست کے کس قدر اسیراور یورپی یونین اور علاقے کے لئے درست حکمت عملی کی تشکیل سے کس قدر بے بہرہ ہو چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ مخالف حلقوں کی غیر صائب معلومات پر مبنی ناحق الزامات اور مفروضات سے بھری یہ رپورٹ یورپی یونین کےہمیشہ کے سطحی اور بے بصیرت موقف کا ایک عکس ہے۔ وہ سطحی اور بے بصیرت موقف خواہ ہمارے ملک کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ہو خواہ یورپی یونین کے مستقبل کے بارے میں۔ ایک ایسے دور میں کہ جب ترکیہ۔یورپی یونین تعلقات کے احیائے نو کے لئے ایک موقع پیدا ہوا ہے اور ہمارا برّاعظم عدم استحکام اور سلامتی کے اعتبار سے ایک بحرانی دور سے گزر رہا ہے، یورپی پارلیمنٹ کا ترکیہ کے رکنیت مذاکرات کی جگہ دیگر موضوعات کو ایجنڈے پر لانا غیر عقلی روّیہ ہے۔ علاوہ ازیں یورپی پارلیمنٹ کی رپورٹ میں شامل بحیرہ ایجیئن، مشرقی بحیرہ روم اور قبرص کے موضوعات بعض منتخب حلقوں کی یک طرفہ سوچ اور تاریخی و قانونی حقائق سے بے بہرہ دعوے ہیں۔ یہ دعوے ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتے”۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں کسٹم یونین کی تجدیدکے ساتھ ویزہ معافی مذاکرات کی تیزی سے تکمیل ترکیہ کا یورپی یونین کے ساتھ ایک مشترکہ ہدف ہے۔ ان موضوعات کے بارے میں متوقع دو طرفہ اقدامات ترکیہ۔یورپی یونین تعلقات اور ترکیہ کے رکنیت مرحلے میں ایک نیا رُخ اور ہمواری عطا کریں گے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ترکیہ، سلامتی، انرجی، ماحولیاتی تبدیلیوں، ہجرت، تجارتی و اقتصادی مشکلات سمیت تمام مسائل کے مقابل یورپی یونین کو ایک گلوبل طاقت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کی آگاہی ایک ایسی بلند نظری سے ہی ممکن ہے کہ جو بعض حلقوں کے سطحی مفادات کے تسلط سے آزاد ہو”۔
