اس بیان میں مزید کہاگیا ہے "کچھ سفارت کاروں کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھمکیاں موصول ہونے کے بعد، گلوبل افیئر کینیڈا، انڈیا میں اپنے عملے کا جائزہ لے رہا ہے۔”
کینیڈا کے مشن کے بیان میں کہاگیا ہے کہ "نتیجتاً، اور بہت زیادہ احتیاط کے باعث، ہم نے بھارت میں عملے کی موجودگی کو عارضی طور پر ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
بھارت کا ردعمل
اس بیان کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے کینیڈین حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ سفارتی موجودگی میں برابری ہونی چاہیے۔
باغچی نے کہا "یہاں ان کی تعداد کینیڈا میں ہمارے مقابلے بہت زیادہ ہے،میرا اندازہ ہے کہ کمی ہو گی۔
” نئی دہلی نے یہ بھی کہا کہ اس نے کینیڈا میں ویزا کی درخواستوں کو ہینڈل کرنا بند کر دیا ہے، "
ترجمان ارندم باغچی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر آپ ساکھ کے مسائل اور ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بات کر رہے ہیں، تو اگر کوئی ایسا ملک ہے جس کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، تو میرے خیال میں وہ کینیڈا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں،اور انتہا پسندوں اور منظم جرائم کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پراس(کینیڈا) کی بڑھتی ہوئی ساکھ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جسے اپنی بین الاقوامی ساکھ کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے۔”
قبل ازیں جمعرات کو، کینیڈا میں بھارت کے سرکاری ویزا پروسیسر نے کہا کہ اسے درخواستوں سے نمٹنے کو روکنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد یہ خبربھارتی میڈیا پر پھیل گئی، BLS انٹرنیشنل نے نوٹس کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔
بدھ کو بھارت کے ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ دھمکیوں نے خاص طور پر بھارتی سفارت کاروں اور بھارتی کمیونٹی کے ان افراد کو ہدف بنایا ہے جوبھارت مخالف ایجنڈے کےخلاف ہیں۔” "لہذا بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کینیڈا کے ان علاقوں اورمقامات کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں اس طرح کے واقعات دیکھے گئے ہوں۔”
(یہ رپور ٹ اے ایف پی کے مواد پر مبنی ہے۔)
