چین کی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز بحیرہ زرد میں دشمن کی آبدوزوں کے لیے بنائے گئے جال میں پھنسنے اور اس کے عملے کے 55 افراد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
برطانیہ کے ’دی ٹائمز‘ اور ’ڈیل میل‘ اخبارات کی خبر کے مطابق برطانوی انٹیلی جنس کی جانب سے مبینہ طور پر افشا ہونے والی ’خفیہ‘ کوڈڈ رپورٹ کی بنیاد پر چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نیوی سے وابستہ ایک جوہری آبدوز نے شمال میں شیڈونگ کو نشانہ بنایا ہے ۔ اخبار کے مطابق 21اگست کو چین کے ساحل پر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبدوز، جسے چین نے "امریکہ اور اس کی اتحادی آبدوزوں کے لیے” کے جال میں پھنسایا تھا، 6 گھنٹے تک ساحل پر نہ آ سکی، اور اس کی بیٹریاں ختم ہونے اور اس کا آکسیجن سسٹم کام نہ کرنے کی وجہ سےعملے کے 22افراد اور افسران مارے گئے ہیں ۔دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ 55 افراد پر مشتمل عملہ جس میں طالب علم افسران، 9 چھوٹے افسران اور 17 پرائیویٹ شامل تھے، آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے ہیں ۔
ڈیل میل اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک برطانوی آبدوز نے تبصرہ کیا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو چین نے بین الاقوامی تعاون کو نذر انداز کردای تھا تاہم چین نے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے، برطانوی رائل نیوی نے بھی اخبارات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
واقعے کے وقت چین میں سوشل میڈیا پر یہ افواہیں پھیل گئیں کہ جوہری آبدوز کو زرد سمندر کے قریب یا آبنائے تائیوان میں حادثہ پیش آیا ہے۔
