شکاگو: اسرائیل کی فلسطین اور غزہ پر جارحیت کے اثرات صہیونی ریاست کے حامی ممالک میں بھی نظر آنا شروع ہوگئے۔
ایک جانب اسرائیل کی کھلی دہشت گردی میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین و بچوں کی بھی شامل ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، دوسری جانب صہیونی ریاست کے حامی ممالک اسرائیل کی اس دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تنظیم ہی کو دھمکیاں دینے اور اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کرنے میں پیش پیش ہیں، جن میں بھارت اور امریکا سرفہرست ہیں۔
We are shocked and disturbed to learn that a landlord in Chicago expressing anti-Muslim and anti-Palestinian views broke into a Muslim family’s apartment and attacked them with a knife, injuring the mother and killing her 6-year-old son, Wadea Al-Fayoume. @cairchicago will hold a… pic.twitter.com/N0ILuevq4n
— CAIR National (@CAIRNational) October 15, 2023
ایک تازہ افسوس ناک واقعے میں امریکا کی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں امریکی شخص نے اپنے فلسطینی کرایے داروں پر حملہ کردیا، جس میں 6 سالہ بچے کو انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا جب کہ بچے کی ماں بھی شدید تشویش ناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق شکاگو میں 71 سالہ امریکی شہری نے درندگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مکان کے نچلے حصے میں کرایے پر رہنے والے فلسطینی خاندان پر حملہ آور ہوا۔ ملزم نے فوجی چاقو کے پے در پے وار کرکے فلسطینی بچے کو قتل اور اس کی والدہ کو شدید زخمی کردیا۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ 6 سالہ معصوم بچے پر فوجی چاقو جو نسبتاً بڑا ہوتا ہے، سے 26 وار کیے گئے تھے جب کہ اس کی زخمی والدہ پر بھی 12 سے زیادہ حملوں کے زخموں کے نشانات ہیں، جو اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ملزم سے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے کرایے دار فلسطینی خاندان کو صرف اس وجہ سے حملے کا نشانہ بنایا کہ وہ مسلمان اور فلسطینی تھے جب کہ ملزم اسرائیل کا حامی ہے۔
دوسری جانب امریکی اسلامی تعلقات کونسل (سی اے آئی آر) نے لرزہ خیز حملے میں جان کی بازی ہارنے والے بچے اور اس کی والدہ کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امریکی شہری کے قاتلانہ حملے کو اسلامو فوبیا کا عمل قرار دیا ہے۔
تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے پھیلائے گئے اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز عوامل کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔
