راولپنڈی: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں فلسطینویں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو میں 260 ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کی۔ کانفرنس میں فلسطین کی تازہ صورت حال اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں اور طاقت کے بے رحمانہ استعمال کی وجہ سے ہونے والے بڑے جانی نقصان پر اظہار تشویش کیا گیا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کانفرنس میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی مسلمانوں کو پاکستانیوں کی ہر طرح کی مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے ٹھوس حل، فلسطین اور مسلمانوں کے مقدس مقامات پر قبضے کے خاتمے کے لیے اپنے فلسطینی بھائیوں کے اصولی مؤقف کی حمایت جاری رکھے گا۔
علاوہ ازیں 260 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ربیع الاول کے دوران ژوب، مستونگ اور ہنگو میں شہید ہونے والے اہل کاروں کے ایثال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ کانفرنس کے شرکا نے ملک میں دہشت گردی کے خلاف مادر وطن کے دفاع میں سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل قربانیوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے عناصر، دہشت گردوں، سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے عناصر سے ریاست پوری طاقت کے ساتھ نمٹے گی۔
فورم کو خطے کی صورتِ حال اور قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں اپنی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ فورم نے ہر قسم کے بالواسطہ اور بلاواسطہ خطرات کے خلاف پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکا نے عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے معاشی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو،پاکستانی عوام کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔
فورم نے غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ پاک فوج ملک بھر میں غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ علاوہ ازیں مختلف علاقوں میں ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ مافیاز اور کارٹلز کے خلاف کارروائیوں کو آئندہ مزید تقویت دی جائے گی تاکہ ملک کو معاشی سرگرمیوں کے منفی اثرات سے نجات دلائی جا سکے۔
کانفرنس کے شرکا نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو یکم نومبر 2023ء تک ملک بد ر کرنے اور وطن واپس بھیجنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرنے کا عزم کیا۔ آرمی چیف نے تمام غیر قانونی تارکین وطن کی باعزت اور محفوظ وطن واپسی اور ڈیپورٹیشن کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور آپریشنز کے دوران پیشہ ورانہ مہارت کے معیار کو برقرار رکھنے اور فارمیشنز کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کے حصول پر بھی زور دیا۔
