English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی ادارے فلسطین پر ناجائز صہیونی تسلط ختم کروائیں، علما و مشائخ قومی فلسطین کانفرنس

القمر

لاہور: علما ومشائخ قومی فلسطین کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اکابر جید علماو مشائخ نے امیرجماعت اسلامی سراج الحق کی میزبانی و صدارت میں شرکت کی اور مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیاکہ:

علماء مشائخ کی قومی فلسطین کانفرنس ارض فلسطین پر غزہ اور مغربی کنارے پر حالیہ اسرائیلی جارحیت اور فلسطین میں اسرائیلی مسلسل بمباری اور انسانوں کے بے دریغ قتل عام سے جنم لیتے انسانی المیے پر عالمی طاقتوں کی مجرمانہ، متعصبانہ کردار اور چشم پوشی پر شدید احتجا ج کرتا ہے۔ فلسطین، فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل ناجائز صہیونی تسلط ہے۔ فلسطینی آزادی کے حصول کے لیے تحریک آزادی کابنیادی انسانی اور عالمی قوانین کے مطابق حق رکھتے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری سے آزاد عالمی ذرائع کے مطابق بچوں سمیت5500 فلسطینی شہید، 20ہزار سے زائد زخمی اور بمباری سے تباہ شدہ سینکڑوں عمارتوں کے ملبے تلے فلسطینی دبے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اسپتالوں، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں، معصوم بچوں، خواتین اور ضعیف شہریوں، رضا کاروں اور انسانی حقوق کے لیے کوشاں نمائندوں، صحافی برادری کو نشانہ بنا رہاہے۔

جنگوں کے جائزہ کی عالمی تنظیم نے آگاہ کیا کہ غزہ پر ایک ہفتے میں اسرائیل نے اتنے بم برسائے جتنے امریکا نے افغانستان میں ایک سال میں بم گرائے، یہ بمباری گنجان شہری آبادی پر ہے اورسنگین غلطیوں سے انسانی المیے کاپیمانہ بہت وسیع ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جنگی جرائم کی عالمی عدالت اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگی جرائم کو روکنے اور مجرم اسرائیل کو کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کے ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے کے علاقے میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔ غزہ مکمل طور پر مسلسل بمباری کی زد میں ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے، اسپتال تباہ ہوچکے ہیں۔ شہریوں کے لیے انسانی زندگی کے ہولناک المیے رونما ہو رہے ہیں۔

اسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد ادویات اورمیڈیکل آلات ختم ہوگئے ہیں۔ اسرائیل نے پانی اور بجلی کانظام منقطع کردیا ہے اور خوراک کی قلت ہولناک صورت حال اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل تمام عالمی قوانین اورعالمی انسانی حقوق چارٹر کی پامالی کے جرائم کا ارتکاب کررہاہے۔ جنگی جرائم کا ہاتھ روکنا عالمی برادری کا فرض ہے۔

اسرائیلی صہیونی ظلم، بربریت اور جنگی جرائم کے اقدامات کے لیے امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کے بعض ممالک کاکردار انتہائی شرمناک، انسانیت سوز اور انسانی تہذیب پر بدترین داغ ہے۔ اقوام متحدہ میں جنگ بندی، انسانوں پر کارپٹ پمپنگ روکنے کے لیے چین اور روس کی کوششوں کو ویٹو کرنا، ظلم اور تعصب و جانبداری کی انتہا ہے۔

غزہ سے فلسطینیوں کا جبری انخلا انسانیت کے خلاف خوفناک جرائم کاعکاس ہے۔ عالمی برادری ظلم کی حمایت اور چشم پوشی کی بجائے غزہ پر بمباری، زمینی آپریشن،محاصرے اور جبری انخلا کو روکے، اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔ انسانیت کے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے ہمدرد اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

علما مشائخ قومی فلسطین کانفرنس اس امر پر فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرتی ہے اور حماس، فلسطینی عوام کی آزادی کے حصول کے لیے طوفان الاقصیٰ کو بروقت وبرحق قرار دیتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ فلسطینیوں کے پاس مسئلہ فلسطین کواجاگر کرنے اور عالمی برادری کو اسرائیلی صہیونی ناجائز قبضے، ظلم و جبر،انسانیت سوز واقعات سے آگاہ کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ صورت حال واضح ہے کہ:

1۔ دشمن مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی،اسے یہودی شناخت دینے اور ہیکل صہیونی کی تعمیر کے اپنے ایجنڈے ماضی کے مقابلے میں بہت تیزی سے آگے بڑھ رہاتھا۔

2۔ دشمن فلسطینیوں کو گزشتہ 15 سال سے دھیرے دھیرے موت کی طرف دھکیلنے کے منصوبہ پر کاربند ہے۔ نوجوان روز گار سے محروم، فلسطینیوں کی تیسری نسل بحرانوں کی وجہ سے محرومیوں کاشکار ہے، سینکڑوں نوجوان جبری ترک وطن کی وجہ سے سمندر میں مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ہیں۔ عالمی اداروں اور عالم اسلام نے فلسطینیوں کو بے سہاراچھوڑ دیا ہے۔

3۔ اسرائیل کی قیدمیں فلسطینی ذلت آمیز، وحشیانہ اذیتوں کاشکار ہیں،ہررو ز کئی کئی بار موت کی چکی میں پسے جارہے ہیں، ڈیڑھ میٹر کے سیل میں فلسطینی قید ی بند ہیں، نیز برازوگندگی سے سیل لت پت کیے جاتے ہیں۔ قیدیوں کو ننگا رکھا جاتاہے، اس لیے فلسطینیوں کی یہ آوازطاقت بن چکی ہے کہ قیدی رہاہوں اور اس جہنم سے آزادی کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے۔

4۔ طوفان الاقصیٰ کے مزاحمتی حلقوں کو یہ خفیہ اطلاعات مل چکی تھیں کہ اسرائیل صدی کی ڈیل امریکی منصوبہ کے مطابق غزہ کو تباہ کرنے کی بھرپور تیاری کرچکا ہے۔ مزاحمتی قوت نے فیصلہ کیاکہ دشمن کے اچانک حملے کے سدباب کے لیے حق مزاحمت استعمال کیاجائے۔ فلسطینی 2014ء سے اچانک حملوں کی تباہی سے دوچار ہیں۔

5۔ علماء ومشائخ قومی فلسطین کانفرنس جنگی جہازوں اور میزائلوں کی گھن گرج اور مسلط کردہ موت کی گھٹن میں فلسطینی عوام، مرد و خواتین، بہادر بچوں کی استقامت کے لیے دعا گو اور میدان عمل میں علماء ومشائخ اپنا دینی اور اُمتی کاکردار اداکرنے کے لیے تیار ہیں۔ ملت اسلامیہ جسد واحد ہے اور ہم اپنے فلسطینی مظلوم بھائی بہنوں اوربچوں کے دکھ درد کو پوری گہرائی سے محسوس کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

٭ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے بالخصوص انسانی حقوق کے علمبردار اسرائیل کو جنگی جرائم سے روکیں، انسانوں کے قتل عام،نسل کشی کا سلسلہ روکاجائے۔ جانبداری،متعصبانہ کردار ترک کیاجائے۔

٭ امریکا، برطانیہ اور یورپی ممالک جان لیں کہ پوری دنیا میں انہیں اسرائیلی صہیونی ناجائز ریاست کی ناجائز حمایت سے پوری دنیا سے نفرتیں مل رہی ہیں۔یہ وقت ہے کہ عالمی امن اور دنیا کو نئی عالمی جنگ سے بچانے کے لیے وہ اپنا کردار درست کریں اور غزہ میں جنگی جرائم بند کرائیں۔

٭ اتحاد اُمت وقت کااہم ترین چیلنج ہے۔ پورے عالم اسلام میں فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھائی گئی ہے۔ لیکن یہ ابھی تک ناکافی ہے۔ قبلہ اول ہاتھ سے گیا تو مدینہ منورہ،مکہ مکرمہ کے لیے بھی صہیونی خطرہ حقیقت بن جائے گا۔ عالم اسلام فوری موثر اقدامات کرے۔ سعودی عرب، پاکستان،ایران، ترکیہ، قطر، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر  کے لیے پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے بہت اہم ذمہ داری ہے۔ او آئی سی کا سربراہی اجلاس فوری طلب کیاجائے۔ سعودی عرب اس نازک اورا ہم موقع پر ہمیشہ کی طرح قائدانہ کردار ادا کرے۔

٭ پوری دنیا میں فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی ظلم وبربریت کے خلاف ایک دن”فلسطین ڈے“ کااعلان کیا جائے اور فلسطینی بچوں پر ظلم جبر مسلط تباہی کے خلاف دنیابھر کے بچوں کے لیے بھی احتجاج کے ایک دن کااعلان کیاجائے۔ یہ عمل دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑے گا۔

٭اہل دانش اور پالیسی ساز حلقوں کو جان لینا چاہیے کہ قومی، گروہی اور علاقائی مفادات کی بنیاد پر موجودہ عالمی نظام درحقیقت دنیا کو تباہی کی طرف لے جارہاہے۔ ریاستوں پر مسلسل دباؤ توناگزیر ہے لیکن وہ مفادات کو اصولوں، اقوام متحدہ کے چارٹر پر ترجیح نہ دیں،اپنی حکمت عملی اور فیصلے اصولوں کی بنیاد پر ترتیب دیں۔

٭ حالیہ عرصہ میں اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے والے یا اس پر سوچ بچار کرنے والے مسلم ممالک کے لیے حالیہ واقعات موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات پر نظر ثانی کریں۔ فلسطین پر اسرائیلی موقف تبدیل کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا، تجارتی و سفارتی تعلقات کی بحالی درحقیقت 75سال سے جاری مظالم وغیر قانونی قبضہ کو سند قبولیت دینے کے مترادف ہے۔

٭ غزہ پر اسرائیلی، صہیونی اور امریکی برطانوی ہندوستانی ظلم،قتل وغارت گری کے اقدامات پر پاکستان کاموقف اس کے شایان شان نہیں۔ ایٹمی صلاحیت کے حامل اسلامی ملک سے ملت اسلامیہ کی ہمیشہ بڑی توقعات ہیں، مسئلہ فلسطین پر قائداعظم ؒکا اصول آج بھی پاکستان کی پالیسی رہنی چاہیے۔ حکومت پاکستان مضبوط موقف کے ساتھ اپنا سفارتی، سیاسی اور انسانی خدمات کاجرأت مندانہ کردار ادا کرے۔

٭ مسلم دنیا اہل فلسطین کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ”عالمی فلسطین فنڈ“قائم کرے۔ غزہ فلسطین تک رسائی کرکے انسانی امداد و وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اقوام متحدہ انسانی امداد کے لیے غزہ، رفاہ،مغربی کنارے کے تمام راستوں کو کھولے اور محفوظ بنائے۔ ملک بھر میں فلسطینیوں کی امدادی کاروائیاں اچھا اقدام ہے۔ کانفرنس الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی بروقت انسانی ہمدردی کی بناء پر سرگرمیوں کی تحسین کرتی ہے۔ پاکستانی ملت فلسطینیوں کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔

علماء ومشائخ قومی فلسطین کانفرنس دنیابھر خصوصاً اسلامی ممالک میں فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج اور مظاہروں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اسلامی ممالک اور چین، روس، کینیڈا اور دیگر ممالک کے مثبت کردار پر تحسین کرتی ہے۔ پاکستان بھر میں سیاسی، دینی، سماجی، سول سوسائٹی کے یکجہتی فلسطین مظاہرے عوامی جذبات کی ترجمانی ہے۔

اہل کراچی کا یکجہتی فلسطین کے لیے بڑے احتجاجی مظاہرے مقام تشکر ہیں۔ علماء ومشائخ قومی فلسطین کانفرنس 29اکتوبر 2023ء اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ کے باہر یکجہتی فلسطین ملین مارچ کی پُرزور تائید کرتی ہے اور اہل ایمان سے اپیل کی جاتی ہے کہ اسلام آباد ملین مارچ میں بھرپور شرکت کرکے اتحاد اُمت کاعظیم مظاہرہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے