لندن: غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری ہے اور اب تک گیارہ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ تعداد بچوں کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ کے الشفا اسپتال میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے دو نومولود جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 37 نومولود بچوں کی جان سخت خطرے سے دوچار ہے۔
When these pop-feminists speak about “feminism” ask them what they said about this- forever. Let their failure of humanity haunt them so they never speak about women or rights or freedom again. I hope they just wear their dresses and nice shoes and pose for pictures on red… pic.twitter.com/IhFIfryuP5
— fatima bhutto (@fbhutto) November 12, 2023
فاطمہ بھٹو نے ان خبروں پر ’پاپ فیمنسٹ‘ فنکاروں کے دوغلے پن پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ وہ کب ان وحشیانہ مظالم پر اپنی زبان کھولیں گی۔
انہوں نے لکھا کہ یہ فنکار خواتین آزادی کے نعروں پر مشتمل لباس پہن کر نسل پرست فرنچ میگزین کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی لیکن آکسیجن نہ ملنے سے بچوں کی موت پر یہ مکمل خاموش ہیں۔
Every female celeb under the sun wore a woman life freedom t-shirt, wore Times Up badges, and stood alongside a racist French magazine by wearing Charlie hebdo accessories. And yet have said nothing, utter silence, on the women whose babies are left to die without oxygen. https://t.co/gg5AciTYAQ
— fatima bhutto (@fbhutto) November 12, 2023
فاطمہ بھٹو نے مزید لکھا کہ یہ فیمنسٹ فنکار صرف لباس پہن کر سرخ قالین پر تصاویر کھنچا سکتی ہیں اور ان سے اسرائیلی مظالم کے خلاف کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں صرف ایک دو اچھی ہیں باقی مکمل فراڈ اور توجہ کی بھیک مانگنے والی نعرے باز فنکار ہیں۔
