کراچی: نگراں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے معیشت درست سمت پر گامزن ہوگی۔
دی فیچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ سے ہونے والے معاہدے کے تحت توانائی کی قیمت میں کمی کریں گے۔ حکومت کے اخراجات میں بھی کمی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب سے 7 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ نگراں حکومت کا کام معاشی استحکام اور آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل کرانا تھا، جس کے بعد آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا پروگرام لینا ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے حصول اور مزید ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے بھی نگراں حکومت کوشاں ہے۔
نگراں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مزید 700 ملین کی فراہمی کا اسٹاف لیول کا معاہدہ ہوگیا ہے، اس معاہدے سے معیشت درست سمت میں گامزن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور ایشیا میں معاشی طاقت بن کر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی بینک کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت 2047ء میں 2 ٹریلین تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے اس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے جا رہے ہیں، جس سے ٹیکس چوری کرنے والوں اور نان فائلرز کا پتا چلے گا۔
