القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کا ‘‘امریکا کے نام خط’’ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جہاں دہشت گردی میں صہیونی ریاست کے مددگار اور پشت پناہی کرنے والے امریکا کے چہرے سے نقاب چکا ہے، وہیں دنیا بھر میں دہشت گردی کے محرکات سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کی جانب سے سخت ناراضی کے بعد برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ویب سائٹ سے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے 21 برس پرانے خط کو حذف کردیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکا میں نائن الیون حملوں کی وجہ اسرائیل کے لیے امریکا کی اندھی حمایت تھی۔
دی گارڈن کی ویب سائٹ پر پوسٹ ہونے والا ترجمہ شدہ خط دنیا بھر میں لاکھوں مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے، جس پر امریکا اپنا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آنے پر سیخ پا ہے، جب کہ دوسری جانب امریکی دباؤ کی وجہ سے دی گارڈین اپنی ویب سائٹ سے خط کو حذف کرنے پر مجبور ہوگیا۔
منگل کے روز ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کے ذریعے شیئر ہونے والے اسامہ بن لادن کے ‘‘امریکا کے نام خط’’ کو پڑھنے کے بعد دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین اسرائیل کی فلسطین اور غزہ میں حماس کے خلاف بم باری اور اس پر امریکی اندھی حمایت پر اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔
Over the past 24 hours, thousands of TikToks (at least) have been posted where people share how they just read Bin Laden’s infamous “Letter to America,” in which he explained why he attacked the United States.
The TikToks are from people of all ages, races, ethnicities, and… pic.twitter.com/EwjiGtFEE3
— Yashar Ali 🐘 (@yashar) November 16, 2023
اسامہ بن لادن کی جانب سے اس ‘‘امریکا کے نام خط’’ میں واضح کیا جا چکا تھا کہ نائن الیون حملوں کی وجہ اسرائیل کے لیے امریکی حمایت تھی۔ اسامہ بن لادن نے خط میں لکھا تھا کہ نائن الیون حملہ کبھی نہ ہوتا اگر مظلوم فلسطینیوں کا درد، چیخیں اور مظلومیت کو سن لیا جاتا۔
گیارہ ستمبر 2001ء میں پینٹاگون پر حملوں کے ایک برس بعد لکھے گئے خط میں اسامہ بن لادن نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے ان سوالوں کا جواب دیا تھا کہ آخر القاعدہ امریکا کی مخالفت کس بنیاد پر کرتی ہے اور امریکا سے کیا چاہتی ہے۔اسامہ بن لادن نے کہا تھا کہ امریکا فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں اسرائیل کی کھلی پشت پناہی کرتا ہے۔
القاعدہ رہنما نے اپنے خط میں مغربی ممالک کے دہرے معیار اور رویے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جھوٹا اور اخلاق سے عاری قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔ اسامہ بن لادن کا کہنا تھا کہ امریکا نے لاکھوں فوجی ہمارے خلاف اتارے اور ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے کے ساتھ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے لیے صہیونی ریاست اسرائیل کی کھلی حمایت اور مدد کی اور یہی نائن الیون حملوں کی وجہ تھی۔
‘‘امریکا کے نام خط’’ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی واشنگٹن کی جانب سے دی گارڈین پر دباؤ ڈالا گیا، جس کے بعد اس نے اس ترجمہ شدہ خط کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا جب کہ ٹک ٹاک نے بھی بعد ازاں اس ہیش ٹیگ کو اپنے سرچ آپشن سے ہٹاتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک وضاحتی پوسٹ جاری کردی۔
Respectfully, @NikkiHaley, this is the truth: Content promoting this letter clearly violates our rules on supporting any form of terrorism. We are proactively and aggressively removing this content and investigating how it got onto our platform. The number of videos on TikTok is… https://t.co/9Onz1G4b2p
— TikTok Policy (@TikTokPolicy) November 16, 2023
دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دہشت گردی کے محرکات اور امریکی پالیسی پر شدید تنقید جاری ہے، جس پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی حکام نے کہا ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کے اثرات اور کردار پر نظر رکھنی ہوگی۔ ساتھ ہی پروپیگنڈے کے خلاف ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہیں۔
واضح رہے کہ دی گارڈین میں ترجمہ شدہ خط شائع ہونے کے بعد ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے اسے شیئر کیا اور صارفین کو دعوت دی کہ ‘‘آپ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں، مجھے بتائیں’’۔ اس کے بعد اس پوسٹ کو تقریباً ایک کروڑ سے بھی زیادہ افراد نے لائیک کیا اور اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں یہ خط مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر بھی ہوا، جس سے امریکی حکومت کو سبکی کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر مسلسل حملوں اور بم باری میں 12 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جب کہ زخمیوں اور تباہی سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ دوسری جانب امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے صہیونی ریاست اور اس کی قابض فوج کی دہشت گردی کی کھلی حمایت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے امریکا کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔
