ویب ڈیسک —
امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اپنی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں ریاست مشی گن میں ہونے والے پرائمری مرحلے کے انتخابات میں امیدوار ہیں۔
ٹرمپ، اس سال ریپبلکن مقابلوں میں اپنی سبقت کے باوجود، GOP ووٹروں کے ایک ایسے بلاک کا سامنا کر رہے ہیں جو ان کی واحد حریف، اقوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی کی حمایت کرتے ہیں، اور جو سابق امریکی صدر کے دوبارہ نامزدگی حاصل کرنے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
جہاں تک موجودہ صدر بائیڈن کا تعلق ہے، وہ اب تک غزہ جنگ سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اپنی سب سے طاقتور انتخابی رکاوٹ یعنی ناراض ووٹروں کی ایک پرجوش تحریک کا سامنا کر رہے ہیں۔
مشی گن نومبر کے صدارتی انتخابات میں ایک اہم سوئنگ ریاست ہے۔ اور یہاں ہونے والے پرائمری انتخابات سپر ٹیوز ڈے سے پہلے آخری بڑے پرائمری انتخابات ہیں اور اگر وہ منگل کو توقع کے مطابق اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے فتوحات حاصل کرتے ہیں، تو دونوں مہمات ایک ایسی ریاست میں اس فرق کو دیکھ رہی ہوں گی جہاں پچھلی بار بائیڈن نے صرف 3 فیصد پوائنٹس سے برتری حاصل کی تھی۔
بائیڈن نے پیر کو مشی گن کے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ یہ "پانچ ریاستوں میں سے ایک” ہو گی جو نومبر کے صدارتی انتخابات میں فاتح کا تعین کرے گی۔
ریاست مشی گن میں امریکہ میں آباد عربوں کی سب سے زیادہ تعداد رہائش پذیر ہے۔ تین لاکھ دس ہزار سے زیادہ باشندے مشرق وسطیٰ یا شمالی افریقی پس منظر کے حامل ہیں ۔ریاست مشی گن کے شہر ڈیئربورن کے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار رہائشیوں میں سے تقریباً نصف عرب حسب نسب سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
حماس کے 7 اکتوبر کے مہلک حملے اور 200 سے زیادہ یرغمالیوں کے اغوا کے بعد، یہ شہر اسرائیل-حماس جنگ میں امریکی پالیسیوں سے جمہوری انداز میں عدم اطمینان کے اظہار کا مرکز بن گیا ہے۔ اسرائیل نے جواب میں غزہ کے بیشتر علاقوں پر بمباری کی ہے، جس میں فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 30,000 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔
ڈیموکریٹس ناراض ہیں کہ بائیڈن نے اسرائیل کے جارحانہ اقدام کی حمایت کی ہے اور جنگ بندی کے مطالبات کی مخالفت کی ہے۔ یہی احتجاج ڈیموکریٹک ووٹروں کو اپنے حق رائے دہی کے لیے "غیر وابستہ” رہنے کے آپشن کو استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
"غیر وابستہ” رہنے کی مہم، کا آغاز چند ہفتے قبل بھرپور طریقے سے کیا گیا تھا، اس کوشش کو ڈیموکریٹک نمائندہ اور کانگریس میں پہلی فلسطینی نژاد امریکی خاتون راشدہ طلیب، اور ڈیموکریٹک پرائمری ہارنے والے سابق نمائندے اینڈی لیون جیسی شخصیات کی حمایت حاصل ہے، جنہیں شکست دینے کے لیے اسرائیل کے حامی گروپوں نے دو سال قبل 4 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔
عباس علاوی، جو Listen to Michigan نام کی مہم کے تحت ووٹروں کو "غیر وابستہ” کے آپشن کے انتخاب پر زور دے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ کوشش ایک طریقہ ہے کہ ہم جنگ بندی کے لیے ووٹ دیں، امن کے لیے ووٹ دیں اور جنگ کے خلاف ووٹ دیں”۔
ڈیئربورن سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ انجینئر شہیر عبدالرب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں عرب امریکیوں کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپبلکنز کے ساتھ زیادہ قربت محسوس ہوتی ہے۔
عبدالرب کا کہنا تھا کہ انہوں نے چار سال قبل بائیڈن کو ووٹ دیا تھا لیکن ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں جیت جائیں گے، جس کی وجہ جزوی طور پر عرب امریکیوں کی حمایت ہو گی۔
"میں ٹرمپ کو اس لیے ووٹ نہیں دے رہا کہ میں ٹرمپ کو صدر دیکھنا چاہتا ہوں، بلکہ اس لیے کہ مجھے بائیڈن نہیں چاہیے۔ بائیڈن نے غزہ میں جنگ روکنے کا مطالبہ نہیں کیا”۔
ٹرمپ نے 2016 میں ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں گیارہ ہزار ووٹوں سے ریاست مشی گن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ پھر چار سال بعد وہ اسی ریاست سے بائیڈن کے مقابلے میں تقریباً ایک لاکھ چون ہزار ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ علاوی کہتے ہیں کہ "غیر وابستہ” رہنے کی مہم یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے پاس کم از کم اتنے ووٹ ہیں جن کے ساتھ 2016 میں سابق صدر ٹرمپ نے سبقت حاصل کی تھی، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ بلاک کتنا بااثر ہو سکتا ہے۔
علاوی کہتے ہیں کہ، "غزہ کی صورت حال یہاں کے بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہے اور صدر بائیڈن ووٹروں کو امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالروں کے ذریعے کیے جانے والے جنگی جرائم کو روکنے کے لیے کچھ بھی ایسا فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو انھیں ووٹ دینے کے لیے قائل کرے۔”
ہمارا انقلاب نامی گروپ نے بھی، جو ریاست ورمونٹ سے سینٹر برنی سینڈرز کا حامی رہا ہے، منگل کو امریکہ کے پروگریسو یا ترقی پسند ووٹروں کو "غیر وابستہ” کے آپشن کے انتخاب کی تاکید کی ہے، تاکہ امریکی صدر بائیڈن کو پیغام بھیجا جا سکے کہ "غزہ کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کریں، ورنہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں ریاست مشی گن کو ٹرمپ کے حق میں کھو دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ”
ریاست کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس رو کھنہ امریکی صدر جو بائیڈن کے حامی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ریاست مشی گن میں کئی اجلاس منعقد کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہو ں نے مقامی کمیونٹی کو بتایا ہے کہ غزہ جنگ پر ان کے اختلاف کے باوجود، وہ بائیڈن کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے ٹرمپ کے مقابلے میں بہتر امکانات پیش کرتے ہیں۔
رو کھنہ نے کہا کہ میں نے کمیونٹی کے لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ میں ان لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جو اپنے ووٹ کے ذریعے امریکی پالیسی میں تبدیلی لانے کا امریکی طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ لیکن رو کھنہ کے مطابق بائیڈن کے حامیوں کو غیر وابستہ کے آپشن کو استعمال کرنے والے ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
دوسری طرف ٹرمپ نے ریاست کے بڑی شہر ڈیٹرائٹ میں 17 فروری کو دو ہزار افراد کو اکٹھا کیا تھا۔
ریاست آئیووا، نیو ہیمپشائر اور ساؤتھ کیرولائنا میں ریپبلکن ووٹروں کے ایک حالیہ سروے اے پی ووٹ کاسٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کے بنیادی ووٹرز زیادہ تر سفید فام ہیں، ان کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے اور اکثر کے پاس کالج کی تعلیم نہیں ہے۔ اس لیے ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات میں ووٹرز کے زیادہ متنوع گروپ کو ووٹ دینے کے لیے راضی کرنا ہو گا۔
2022 کے وسط مدتی انتخاب میں ٹرمپ کے زیادہ تر نامزد امیدواروں نے شکست کا سامنا کیا تھا، جس سے واضح ہوا تھا کہ اس ریاست میں ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسرے ریاست مشی گن میں ریپبلکن ووٹ ٹرمپ کے حامی گروہوں میں بھی تقسیم کا شکار ہے۔ جس سے ممکنہ طور پر اس کی طاقت ایک ایسے وقت میں کمزور ہو رہی ہے جب ریپبلکن پارٹی اس ریاست میں نومبر کے انتخابات میں بائیڈن کو شکست دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
بائیڈن اور ٹرمپ دونوں نے اب تک اپنی اپنی پارٹیوں کے پرائمری انتخاب کے مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بائیڈن جنوبی کیرولائنا، نیواڈا اور نیو ہیمپشائر میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے تمام ابتدائی ریاستی مقابلے جیت لیے ہیں اور ان کی ٹیم مارچ کے وسط تک ریپبلکن نامزدگی کو حاصل کرنے کے لیے درکار ڈیلیگیٹس کی حمایت یقینی بنانے کے لیے پر امید ہے۔
لیکن ٹرمپ کے مد مقابل نکی ہیلی اب بھی پر عزم ہیں کہ وہ ریپبلکن صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کو کم از کم 5 مارچ کو سپر ٹیوز ڈے تک جاری رکھیں گی، جب 15 امریکی ریاستوں اور ایک علاقے میں ریپبلکن نامزدگی کے لیے پرائمری انتخابات ہوں گے۔
نکی ہیلی نے ریاست مشی گن میں اتوار اور پیر کو اپنی مہم جاری رکھی، جہاں ووٹروں نے منگل کے پرائمری انتخاب کے مرحلے میں ان کی کامیابی کے لیے جوش و خروش کا اظہار کیا۔ باوجود اس کے کہ چار ریاستوں میں ہونے والے ابتدائی پرائمری انتخابات میں ان کی شکست سے تاثر یہی ابھرتا ہے کہ وہ ریپبلکن صدارتی نامزدگی حاصل نہیں کر سکیں گی۔
(اس رپورٹ کا تمام مواد ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)
