English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پارلیمنٹ نہیں چلے گی؟/نواز رضا

القمر
یہ تحریر ہم سب نیوز میں شائع ہوئی
بالا آخر عام انتخابات کے انعقاد کے 21 ویں روز 16 ویں قومی اسمبلی وجود میں گئی صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی کا ایوان نامکمل ہونے کا بہانہ بنا کر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا لیکن 28 فروری 2024 کو رات پونے بارہ بجے سمری پر دستخط کر کے سرپرائز دیا شنید ہے۔ راولپنڈی سے آنے والے ”پیغام رساں“ نے انہیں با وقار طریقے سے ایوان صدر سے روانگی کے لئے سمری پر دستخط کرنے کا آپشن دیا جس کے بعد انہوں نے فوری طور قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سمری پر دستخط کر دیے صدر مملکت عارف علوی کے عہدہ کی مدت ستمبر 2023 ء میں ختم ہو گئی تھی لیکن مقتدرہ نے انہیں نئے صدر مملکت کے انتخاب تک اعلیٰ منصب کو انجوائے کرنے کی اجازت دے دی جب کہ صدر کو گھر بھجوا کر اس منصب پر چیئرمین سینیٹ کو براجمان کیا جا سکتا تھا۔
صدر مملکت پی ٹی آئی کی محبت اپنے دل سے نکال نہ سکے وہ قدم قدم پر شہباز شریف اور انوار الحق کاکڑ کی حکومتوں کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہے بد قسمتی سے پاکستان میں پارلیمنٹ کے انتخابات کی تاریخ اچھی نہیں بلکہ یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گا۔ عام انتخابات کے انعقاد کی تاریخ انتہائی افسوسناک ہے اگرچہ 1970 ء کے انتخابات کی ”شفافیت“ کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن یہ انتخابات بھی شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے جنرل یحییٰ خان نے ”ون مین ون ووٹ“ کے پارلیمانی اصولوں پر انتخابات کرائے تو 56 فیصد آبادی کے صوبہ میں شیخ مجیب الرحمن نے دو ارکان کے سوا کسی سیاسی جماعت کے ایک رکن کو بھی منتخب نہیں ہونے دیا جماعت اسلامی کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی کو پلٹن میدان میں جلسہ نہیں کرنے دیا گیا عبد المالک متحدہ پاکستان کا پہلا شہید تھا جو عوامی لیگ کے کارکنوں کے ہاتھوں پلٹن میدان میں اپنی جان ہاتھ دھو بیٹھا جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتوں نے 1970 کے انتخابات کی شفافیت انگلیاں اٹھائی ہیں۔
1970 کے انتخابات کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا سیاسی قیادت سیاسی ایشوز کو ڈائیلاگ سے حل کرنے میں ناکامی ہوئی تو نوبت فوجی آپریشن تک جا پہنچی جس کی آڑ لے کر بھارت نے اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر پاکستان کے مشرقی حصے کو مغربی حصے سے الگ کر دیا ذوالفقار علی بھٹو نے 7 مارچ 1977 ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف ملک گیر تحریک چلی جس کے نتیجے میں نہ صرف انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا بلکہ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھ کر امر تو ہو گیا لیکن پاکستان 10 سال تک فوجی آمر کی حکومت مسلط رہی ضیا الحق نے اپنی ضرورت کے مطابق غیر جماعتی انتخابات تو کرا دیے لیکن وہ ایک ”کمزور اور ناتواں“ وزیر اعظم کو بھی برداشت نہ کر سکے اور اس کی چھٹی کرا دی ضیا الحق کی شہادت کے بعد پاکستان میں ”کنٹرولڈ ڈیماکریسی“ کا ایسا دور شروع ہوا کہ کسی منتخب وزیر اعظم کو اس کی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی 18، 18 ماہ کی حکومتوں کو آئین کے آرٹیکل 58 ( 2 ) بی کے بے رحمانہ استعمال سے ذبح کیا جاتا رہا جمہوری حکومتوں کو کنٹرول کرنے اور راہ راست پر لانے کے لئے صدر مملکت کے منصب کو اتنا طاقت ور بنا دیا گیا کہ منتخب وزیر اعظم کو کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے قبل ایوان صدر کے مکین کی آشیر باد حاصل کرنا پڑتی جب کہ صدر مملکت کا منصب کہیں اور کنٹرول کیا جاتا رہا اس دور میں ہونے والے انتخابات بھی شفاف نہیں رہے کبھی پیپلز پارٹی کو کامیاب بنا دیا جاتا اور کبھی مسلم لیگ (ن) کو۔
دونوں جماعتوں کو آپس میں لڑانے کی پالیسی جاری رکھی گئی اسے حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور 1997 ء میں مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی جس کے زور پر نواز شریف نے آئین میں 14 ویں ترمیم کر کے ضیا الحق کی متعارف کردہ 8 ویں ترمیم کو اڑا کر رکھ دیا پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے ایک بار پھر نیم مارشل لائی اور نیم جمہوری نظام متعارف کرا دیا اور ان کے دور میں ہونے والے دونوں انتخابات کسی طور پر بھی شفاف نہیں تھے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا حجم سکڑ کر چند نشستوں تک محدود کر دیا گیا پھر جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک صفحہ پر ہوئیں تو آمر مطلق کو ایوان صدر سے نکلنا پڑا 2002، 2008 کے انتخابات بھی شفاف نہیں تھے۔ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو آصف علی زرداری نے آروز کا الیکشن قرار دیا عمران خان 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا اور حلقوں کو کھولنے کی آڑ 126 تک وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کا امن تہ و بالا کیے رکھا عدالتی کمیشن بنایا گیا جس میں عمران خان دھاندلی ثابت کر سکے اور نہ ہی کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کیا نواز شریف کی حکومت ختم کرنا ممکن نہ ہوا تو ان کو عدالتی فیصلے کے ذریعے حکومت سے نکلوا دیا گیا پھر 2018 میں ”باجوہ ڈاکٹرائن“ کے تحت انجینئرڈ انتخابات ہوئے آر ٹی ایس بند کر کے جس بے دردی سے انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے اس کی ماضی قریب میں مثال نہیں ملتی جمعیت علما اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
نواز شریف بھی تحریک چلانے کے حق میں تھے لیکن آصف علی زرداری نے دونوں جماعتوں کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھایا انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی جس کے ٹی او آرز بن پائے اور نہ ہی تین سے زائد اجلاس ہوئے جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی فائل سپیکر چیمبر میں سر بمہر کر دی گئی 2024 کے انتخابات بارے میں اسی طرح کی شکایات منظر عام پر آئی ہیں۔ پی ٹی آئی نے 50 سے 80 نشستوں کے نتائج تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
معلوم نہیں کتنی نشستوں پر مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر نوازا گیا لیکن جہاں پی ٹی آئی انتخابی میلہ لٹ جانے پر مصر ہے۔ وہاں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جن پر نوازشات کی بارش کا الزام ہے۔ وہ بھی منقسم مینڈیٹ پر ناخوش دکھائی دیتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب، پیپلز پارٹی کو سندھ اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان مل جانے پر مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں مولانا فضل الرحمنٰ جمعیت علما اسلام کا حجم کم کرنے پر سڑکوں پر آنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
معلق پارلیمنٹ (hung parliament) ٌ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو marriage of convience کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے اپنے 90 سے زائد آزاد پرندوں کو مسلم لیگ (ن) کے آشیانے میں پناہ لینے سے بچانے کے لئے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ عارف علوی کی روانگی کے بعد ایک بار پھر ایوان صدر میں آصف علی زرداری کا دربار لگنے والا ہے۔ شہباز شریف کی حکومت کا قیام پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رحم و کرم پر ہو گا۔
منقسم مینڈیٹ نے جہاں نواز شریف کا چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا راستہ روکا ہے۔ وہاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے بے پناہ مشکلات ہوں گی۔ سوال یہ ہے۔ کیا یہ پارلیمنٹ چلے گی تو میرا جواب اس بات میں ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد ایک صفحہ پر رہے تو یہ پارلیمنٹ بھی چلے گی اور اس کے خلاف کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو گی۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات  سے متفق ہونا ضروری نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے