English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وبائی امراض سے بچاؤ کے حتمی معاہدے کی تیاری پر مذاکرات 29 اپریل سے شروع ہوں گے

مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے سے متعلق مذاکرات کے شریک چیئرمین نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شامل ممالک کے پاس اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے صرف اپریل کا مہینہ باقی رہ گیا ہے کیونکہ ناکامی اب کوئی آپشن نہیں ہے۔

دنیا کے ممالک گزشتہ دو سال سے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہیں، لیکن ویکسین کی تیاری کی شفافیت اور وائرس کی نگرانی جیسے اہم مسائل پر ابھی تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے۔

عالمی ادارہ صحت کا سالانہ اجلاس 27 مئی کو شروع ہو گا جس میں 194 رکن ممالک حصہ لیں گے۔ اجلاس سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ممالک 29 اپریل سے 10 مئی تک جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈکوارٹرز میں اکٹھے ہوں گے۔

مذاکرات کے شریک چیئرمین رولینڈ ڈرائس چاہتے ہیں کہ مذاکرات میں شامل ممالک کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لیے اس وقت کو استعمال کریں۔


 ڈبلیو ایچ او کے حکام نے لوگوں سے ویکسین لگوانے، ماسک پہننے اور عمارات کے اندر جگہوں کو ہوا دار بنانے جیسی احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے۔

 ڈبلیو ایچ او کے حکام نے لوگوں سے ویکسین لگوانے، ماسک پہننے اور عمارات کے اندر جگہوں کو ہوا دار بنانے جیسی احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے۔

اس سلسلے میں سامنے آنے والے اہم نکات میں نئے وائرسوں کے متعلق معلومات کا اشتراک، بیماریوں کے پھیلاؤ کی بہتر نگرانی، قابل بھروسہ مالی امداد اور غیریب ممالک کو وبائی امراض سے نمٹنے کی ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہیں۔

اپریل اور مئی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل کئی ممالک نے کووڈ۔19 کی ایک اور قسم کے پھیلاؤ کی نشاندہی کی ہے۔

کووڈ۔19 وہ وبا ہے جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا، معاشروں کو الٹ پلٹ کر دیا، صحت کے نظام تباہ کر دیے اور لاکھوں زندگیوں کا خراج وصول کیا۔

شریک چیئرمین رولینڈ ڈرائس کہتے ہیں کہ ہر کسی کو معلوم ہے کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔

کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ کا پھیلاؤ؛ پاکستان میں کیا اقدامات ہو رہے ہیں؟





please wait



No media source currently available

ڈرائس کی بین الحکومتی مذاکراتی ٹیم 18 اپریل تک ایک نئے مسودے کا متن تیار کرے گی، جس میں مشترکہ بنیادوں پر توجہ مرکوز ہو گی۔

مذاکرات میں شریک این جی اوز کچھ خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔ پیپلز ویکسن الائنس کے موہگا کمال یانی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امیر ممالک وائرسوں کی تیز رفتار نگرانی کے لیے مالی امداد کی پیش کش نہیں کر رہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے وعدے کر رہے ہیں۔ حتی ٰ کہ وہ ویکسین سے متعلق سرکاری مالی اعانت کی مصنوعات کے آلات پر حقوق کی چھوٹ بھی نہیں دے رہے۔

افریقی ممالک کا گروپ اور شفافیت کے لیے کام کرنے والا 31 ممالک کا گروپ ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض کی روک تھام کے اقدامات، مثال کے طور پر ویکسین تیار کرنے کے لائسنس سمیت، فوائد کی منصفانہ اور تیزی سے تقسیم اور وبائی امراض کے وائرسوں سے متعلق معلومات تک رسائی پر زور دے رہا ہے۔

میکسیکو کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک مؤثر اور منصفانہ معاہدہ کرنے کے لیے بھرپور عزم اور اخلاص کے ساتھ دلیری سے کام کرنا چاہیے۔

(اس رپورٹ کی کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے