English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نومنتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم کا آغازِ سیاست اور قربانیاں

کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے نومنتخب امیر حافظ نعیم الرحمن زمانہ طالب علمی ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہو گئے تھے اور وہ ایک فعال و متحرک طالب علم رہنما کے طور پر اپنی شناخت منوانے میں کامیاب ہوئے۔

حافظ نعیم الرحمن طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر گرفتار بھی ہوئے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر 3 بار جیل بھی کاٹی۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کراچی اور پھر صوبہ سندھ جمعیت کے ناظم بھی رہے۔ انہیں 1998ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ یعنی مرکزی صدر منتخب کیا گیا۔ حافظ نعیم 2 سال اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔

جماعت اسلامی سے وابستگی

اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور عملی سیاست میں باقاعدہ قدم رکھا ۔2001 کے شہری حکومتوں کے انتخابات میں انہوں نے ضلع وسطی کراچی کی ایک یونین کونسل سے نائب ناظم کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے ۔

حافظ نعیم الرحمٰن لیاقت آباد زون کے امیر جماعت اسلامی، ضلع وسطی کے نائب امیر، کراچی جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری اور نائب امیر بھی رہے۔ بعد ازاں 2013 میں انہیں جماعت اسلامی کراچی کا امیر منتخب کیا گیا۔

حافظ نعیم الرحمن بہ طور امیر جماعت اسلامی کراچی

حافظ نعیم الرحمن نے بطور امیر جماعت اسلامی کراچی، شہر قائد کی سیاست پہ طاری جمود کو غیر معمولی جرات اور تحرک کے ذریعے توڑا۔ انہوں نے کراچی کے مسائل کے حل اور سندھ حکومت کی جانب سے جاری زیادتیوں کے خلاف پرزور آواز بلند کرنا شروع کی ۔

جب کوئی بھی سیاسی جماعت کراچی کی دگرگوں امن و امان کی صورتحال، کے الیکٹرک، نادرا کے مسائل اور بحریہ ٹاؤن متاثرین کے لیے آواز اٹھانے کو تیار نہیں تھا تو حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی ان کی آواز بنے ۔

کراچی میں جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں حق دو کراچی کو تحریک کا آغاز کیا جو شہر کی سیاست میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی اور یہ تحریک کراچی کے حقوق کی سب سے توانا آواز بن گئی ۔

جب سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کے رہے سہے اختیارات بھی سلب کرلیے تو جنوری 2022 میں سندھ اسمبلی کے باہر سخت سردی اور بارش میں کھلے آسمان تلے تاریخ ساز دھرنے کا آغاز ہوا ۔ یہ دھرنا 29 روز تک جاری رہا ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو مجبوراً بلدیاتی اداروں کے اختیارات واپس کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔

15 جنوری 2023 کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو جماعت اسلامی نے تمام سیاسی جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ۔ اگر ریاستی طاقت استعمال کرکے نتائج نہ بدلے جاتے تو جماعت اسلامی شہر میں سب سے زیادہ یونین کونسلز بھی جیتنے میں کامیاب رہتی ۔ بدترین دھاندلی کے باوجود جماعت اسلامی نے 87 یونین کونسلز اور 9 ٹاؤنز جیت لیے۔

8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر کراچی نے حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کیا اور وہ شہر سے پونے 8 لاکھ ووٹ حاصل کرنے اور کئی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی مگر فارم 47 میں نتائج بدل کر یہ سیٹیں جماعت اسلامی سے چھین لی گئیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کے مطابق اعلان شدہ جیتی ہوئی سیٹ یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ وہ مخالف امیدوار سے ایک ہزار ووٹ سے ہارے ہیں، اس لیے ان کا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ وہ یہ سیٹ قبول کریں ۔

حافظ نعیم الرحمان کے اس حیرت انگیز اور جرات مندانہ اقدام کی نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی بھرپور پذیرائی ہوئی ۔ سیاسی مخالفین نے بھی حافظ نعیم الرحمان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کئی غیر جانبدار سروے میں حافظ نعیم الرحمن کو کراچی کا اس وقت کا سب سے مقبول رہنما قرار دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے