اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے 7 ہزار 5 سو سے زائد کیسز نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ صرف 23 فیصد کیسز زیر التوا ہیں۔
اسلام آباد میں مشترکہ میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور لاپتہ افراد کے معاملے کا جائزہ لینے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ مسلح افواج اور قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ 2011 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اٹھایا گیا تھا اور اس مسئلے کے حل کے لیے کمیشن بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کے سامنے دس ہزار دو سو کیسز پیش کیے گئے جس نے زیادہ تر مقدمات کو حل کیا اور صرف 23 فیصد مقدمات زیر التوا ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک میں دہشت گردی سے بھی جڑا ہوا ہے اس لیے یہ مسئلہ پیچیدہ ہے اور اسے راتوں رات حل نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن 2011 میں تشکیل دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے 7500 سے زائد کیسز حل ہو چکے ہیں اور لاپتہ افراد کے صرف 23 فیصد کیسز زیر التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کا ساتھ دے کر نفرت اور تقسیم کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صلاحیت اور مطابقت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور حکومت برادر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 619 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کا ایک اور دورہ کریں گے۔

