کراچی: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالتی امور میں کسی کی بھی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جب سے میں نے عہدہ سنبھالا ہے، تب سے ہائی کورٹ کے کسی جج کی جانب سے عدلیہ یا عدالتی امور میں مداخلت کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی اور اگر کوئی مداخلت ہوئی ہو تو اسے رپورٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی شکایت کا معاملہ میرے چیف جسٹس بننے سے قبل کا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی معاملات میں مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت کو پہلے جیسی (اصل) حالت میں بحال کر نے کی ضرورت ہے۔ پہلے سندھ بلوچستان ایک ہی ہائیکورٹ ہوتی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں، جب میں اپنے والد کے ساتھ آتا تھا تب یہ بار روم نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ عدالت عظمیٰ کی نئی بلڈنگ کے تعمیر ہونے پر تقریباً 8 ارب روپے تک کی لاگت آ رہی تھی، اب اس جگہ پر 36 وفاقی کورٹس اور ٹریبونلز بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے یہ پہلی فیڈرل کورٹس کی عمارت بنے گی۔
شہر قائد میں تاریخی عمارتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کراچی میں کئی ایسی عمارتیں ہیں، جو تاریخی حیثیت رکھتی ہیں، اگر کوئی یہاں کی پرانی عمارتیں دیکھنا چاہے تو پارسی کالونی جاکر دیکھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ان عمارتو کو بلڈرز کے حوالے نہ کیا جائے۔

