پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان: وزیراعلیٰ اور گورنر پختونخوا کے درمیان بیانات کی جنگ بڑھتی جا رہی ہے، اس دوران دونوں شخصیات ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور اور گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان بیانات کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بیانات کے جواب میں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ہفتے کے روز گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کے پی کے کی جانب سے گورنر ہاؤس بند کرنے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے پاس تو ایک آئینی عہدہ ہے، مجھے گورنر ہاؤس کی حفاظت کرنی آتی ہے۔ علی امین گنڈاپور گورنر ہاؤس پر چڑھنا چاہتے ہیں۔اگر وہ اس کی کل ریہرسل کرنا چاہیں تو میں تیار ہوں۔
گورنر کے پی کے نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں انہیں فرار ہونے کے لیے ایکسپریس وے دستیاب تھی ، لیکن یہاں انہیں میں سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی زبان پر قابو لائیں، ورنہ مجھے نمٹنا آتا ہے۔ جیسی زبان استعمال کی جائے گی، جواب بھی ویسا ہی ملے گا۔ جیسا منہ ہوگا ویسا ہی جوابی تھپڑ پڑے گا۔
دوسری طرف ڈیرہ اسماعیل خان میں عدالت میں پیشی کے موقع پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے گورنر فیصل کریم کنڈی کے بیانات کا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس آئینی عہدہ ہے، اس لیے سیاسی گفتگو سے پرہیز کرو، ورنہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے سب کچھ بند کردوں گا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سطحی بات کی جا رہی ہے، میں عدالتوں میں احترام میں پیش ہو رہا ہوں اور کسی قسم کا استثنا نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ میری تنبیہ پر عمل نہ کیا تو تمہاری (گورنر پختونخوا کی) گرانٹ، گاڑی، پیٹرول سب بند کرکے گورنر ہاؤس کو تاریخی ورثہ قرار دے دیا جائے گا، اس کے بعد وہاں عوام کا داخلہ بھی مفت ہوگا۔

