English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ سے امریکی ڈاکٹروں کےایک گروپ کے انخلا کے لیے امریکہ براہ راست اسرائیل سے بات کر رہا ہے، وائٹ ہاؤس

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے رفح بارڈر کراسنگ بند کرنے کے بعد غزہ میں پھنسے امریکی ڈاکٹروں کے ایک گروپ کو نکالنے کے لیے کام کر رہاہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرن جین پیئر نے بدھ کے روز صحافیوں کو بتایا،”ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور متاثرہ امریکی شہریوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس معاملے پر اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات کر رہا ہے۔

صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظانیہ نے اسرائیل کو رفح میں کسی بڑے فوجی زمینی آپریشن کے خلاف خبردار کیا ہے لیکن جین پیئر نے کہا کہ ڈاکٹروں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں چاہے وہاں کچھ بھی ہو۔


قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان وائٹ ہاؤس میں غزہ جنگ سے متعلق نامہ نگاروں سے بات کر رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان وائٹ ہاؤس میں غزہ جنگ سے متعلق نامہ نگاروں سے بات کر رہے ہیں۔

"ہمیں انہیں باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں باہر نکالنا چاہتے ہیں، اور اس کا کسی اور چیز سے کوئی تعلق نہیں ہے،” جین پیئر نے کہا۔

محکمہ خارجہ نے بھی اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ امریکی حکومت اس بات سے آگاہ ہےکہ غزہ میں موجود امریکی ڈاکٹر علاقہ سے نکلنے سے قاصر ہیں۔

ایک امریکی ویب سائٹ ’دی انٹرسیپٹ‘ نے خبر دی تھی کہ 20 سے زائد امریکی ڈاکٹر اور طبی کارکن غزہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔


رفح کے ایک اسکول میں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینی نقل مکانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

رفح کے ایک اسکول میں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینی نقل مکانی کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکہ میں قائم ایک غیرمنافع بخش تنظیم فلسطینی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نے پیر کو بتایاتھا کہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور 19 افراد پر مشتمل اس کی ٹیم کو، جس میں 10 امریکی شہری بھی شامل ہیں، رفح کے قریب خان یونس کے یورپی ہسپتال میں دو ہفتے تک طبی خدمات فراہم کرنے کے بعد غزہ سے باہر نکلنے نہیں دیا جارہا۔

اسرائیل نے سات مئی کو غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ پر قبضہ کر کے اسے بند کر دیا تھا۔ اس اقدام سے لوگوں کی آمدورفت کی ایک اہم گزر گاہ اور تباہ شدہ علاقے میں جانے والی امداد میں خلل پڑاہے۔


امریکی فوج کی سنٹرل کمان کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویر میں، یو ایس آرمی ویسل, جنرل فرینک ایس بیسن مشرقی بحیرہ روم کے راستے میں ۔ امریکہ غزہ کو سمندری راستے سے انسانی امداد فراہم کرے گا۔ (اے پی)

امریکی فوج کی سنٹرل کمان کی طرف سے فراہم کردہ اس تصویر میں، یو ایس آرمی ویسل, جنرل فرینک ایس بیسن مشرقی بحیرہ روم کے راستے میں ۔ امریکہ غزہ کو سمندری راستے سے انسانی امداد فراہم کرے گا۔ (اے پی)

بدھ کو اسرائیلی فوجیوں کی رفح سمیت غزہ کی پٹی کے دوسرے علاقوں میں حماس کے عسکریت پسندوں سے لڑائی ہوئی۔

حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 12,00 لوگوں کو ہلاک کردیا تھا جبکہ جنگجوؤں نے تقریباً 250افراد کو یرغمال بھی بنالیا تھا۔

اس کے بعد سات ماہ سے جاری جنگ میں لاکھوں فلسطینیوں نے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ حماس کے زیر انتظام فلسطینی محمکہ صحت کے مطابق 35,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔


اسرائیلی فوج کی طرف سے 14 مئی 2024 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں اسرائیلی فوجی اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کے دوران۔ فوٹو

اسرائیلی فوج کی طرف سے 14 مئی 2024 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں اسرائیلی فوجی اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں کے دوران۔ فوٹو

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انسانی ہمدردی کے کارکنوں نے پچھلے ہفتے انتباہ کیا تھا کہ غزہ میں رفح اور کریم شالوم کراسنگ کی بندش سے امدادی کارروائیوں کو روکنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے بیشتر اسپتال فعال نہیں رہے جبکہ صحت کے کئی کارکن ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

(اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے "رائٹرز” سے لی گئی ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے