English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مخصوص نشستوں کا کیس : بڑئی سیاسی جماعتوں کی ایس آئی سی کی درخواست پرمخالفت

اسلام آباد: بڑی سیاسی جماعتوں جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائےاسلام فضل نے سنی اتحاد کونسل کی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی درخواست کی مخالفت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر ایک مکمل عدالت تشکیل دی تھی۔

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ میں دل کے عارضے کے باعث جسٹس مسرت ہلالی کے علاوہ تمام دستیاب ججز شامل ہیں۔

6 مئی کو جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ سمیت سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے پی ایچ سی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے معاملہ کو لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے ججز کی کمیٹی کو بھیج دیا۔

اپنے تحریری حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے سوالات پارلیمانی جمہوریت کے بنیادی آئینی تصور کو چھوتے ہیں  جس میں اسمبلیوں کی تشکیل میں ووٹرز کی آواز صحیح معنوں میں نظر آتی ہے۔

پی ایچ سی نے مخصوص نشستوں کے لیے ایس آئی سی کی درخواست کو مسترد کرنے کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ختم ہو گیا تھا۔

ایس آئی سی کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے پی ایچ سی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں، جس میں پارٹی کو اسمبلیوں میں 67 خواتین اور 11 اقلیتی نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

8 فروری کے عام انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں SIC کو مختص نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس نے ان نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جمع نہیں کرائی تھی۔

تاہم جب اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو پی ایچ سی کا حکم معطل کر دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد، ای سی پی نے ایس آئی سی کو مسترد کردہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے 77 قانون سازوں کی جیت کے نوٹیفکیشن معطل کر دیے۔

حامد رضا کی زیرقیادت ایس آئی سی کو اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وں  نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ۔

تاہم، پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر دعویٰ کرنے کی کوشش مارچ میں اس وقت ناکام ہوگئی جب کمیشن نے فیصلہ دیا کہ ایس آئی سی مخصوص نشستوں کے لیے کوٹہ کا دعویٰ کرنے کا حقدار نہیں ہے ۔

کمیشن نے نہ صرف ایس آئی سی کو مخصوص نشستوں سے انکار کیا بلکہ اس نے انہیں دوسری جماعتوں میں تقسیم کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے