لاہور: سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ کیا حکومت کو عمران خان کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے ؟وزیراعظم ہی ہر وقت صرف ایک ہی تقریر کرتا ہے او نیازی او نیازی نواز شریف کی بھی ساری تقریر عمران خان پر ہی ہوتی ہے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی ہے مخالف بھی ہے لیکن ایک شائستگی کے ساتھ سیاست کر رہی ہے، پیپلز پارٹی پرائم منسٹر کی طرح نہیں کہ ہر وقت نیازی نیازی نیازی کا لفظ دہراتی رہے،یہ بس ایک تضحیک کرنے کا طریقہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ1971 میں ایک پارٹی کی اکثریت کو نہیں مانا گیا اس کی اکثریت بنتی تھی لیکن نہیں دی گئی اس کے نقصانات بھی ہوئے کیا ہم نے 1971 سے کچھ نہیں سیکھا ہے 1971 پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ کیا ہو گیا ہے اگر کسی سابق فوجی یہاں موجودہ فوجی کی ایک تصویر لگا دی گئی ہے تو ہمیں سبق سیکھنا ہوگا ہماری نسلوں کو پتہ ہی نہیں ہے نہ کسی کو علم ہے کہ مشرقی پاکستان بھی تھا ڈھاکہ بھی تھا چٹاگانگ بھی تھا اگر عمران خان نے کہہ دیا ہے کہ پڑھیں جا کے حمود رحمان کمیشن کو تو کیا حرج ہے وہ ججز کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس ہو یا کوئی بھی کیس سپریم کورٹ کو لائیو دکھانا چاہیے اگر پہلے آپ نے کیسز کو لائیو دکھایا ہے تو اب دکھانے میں کوئی حرج نہیں چیف جسٹس صاحب نے جو برٹش ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے اس کے بعد ان کو بینچ میں بیٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق کے موقف کے خلاف آپ نے واضح اپوزیشن لے لی ہے۔

