اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جا ہلوں کا ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے،سپریم کورٹ میں ہماراوقت ضائع نہ کریں۔
قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھاکہ کبھی ایک چیز پڑھ رہے ہیں، کبھی کچھ پڑھ رہے ہیں اس طرح دلائل دینا ہیں توچھوڑیں۔ جبکہ عدالت نے مردان کے رہائشی گیس صارف کو 8لاکھ 83ہزار 670روپے بل کا بھجوانے کے معاملہ پر ایس این جی پی ایل کی جانب سے دائر درخواست خارج کردی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اخترافغان پر مشتمل 3رکنی بینچ نے جنرل منیجر ایس این جی پی ایل حیات آباد کی جانب سے احسان اللہ اوردیگر کے خلاف گیس کے زیادہ بل کے معاملہ پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس کادرخواست گزارکے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لکھنے میں وکیل کیا تھک جاتے ہیں، وکالت کایہ عالم ہے، بندہ کالا کوٹ کوٹ پہن کر وکیل نہیں بنتا، کوئی دائرہ اختیار نہیں خود ہی ڈھونڈیں، اگر وکیل نہیں سمجھنا چاہتے توزبردستی تو نہیں سمجھاسکتے۔
قاضی فائز عیسیٰ کاکہناتھاکہ جاہلوں کا ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے،سپریم کورٹ میں ہماراوقت ضائع نہ کریں۔چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تینوں عدالتوں میں گرائونڈ نہیں لیا، ہمیں قانون نہ سکھائیے کیس کے دلائل دیں، تینوں عدالتوں میں سورہے تھے اب جاگ گئے ہیں، سپریم کورٹ میں کہاں گرائونڈ لیا ہے،ماشاء اللہ لیا ہی نہیں، ایسی درخواستیں دائر ہورہی ہیں۔
جسٹس عرفان سعادت خان کا کہنا تھا کہ اس آدمی کابل 300سے 500تک آتا رہا کبھی 500سے زائد نہیں آیا اور اسے 8لاکھ 83ہزار 670روپے کابل بھیج دیا ، کچھ خداکاخوف کریں، اتنا توکسی کمپنی کابل نہیں آتا،چند ماہ قبل بھی درخواست گزار کو50ہزارکا بل بھجوایا گیا تھااوروہ عدالت میں کیس جیت گیا تھا جس کے خلاف کمپنی نے اپیل ہی نہیں کی۔

