English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارت میں عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ نے بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم کیس کی سماعت کی اور دلایل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نیب ترامیم کیس کی سماعت میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اڈیالہ جیل سے وڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔ دوران سماعت پی پی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے اپنے دلائل دیے، جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا اور چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکم نامہ لکھوا دیا۔

سپریم کورٹ کی آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ:

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریری حکم نامے میں لکھوایا کہ کوئی بھی فریق تحریری جواب جمع کرانا چاہے تو کروا دے، وہ مقدمہ تو ثالثی کے معاملے پر سپریم کورٹ آیا تھا، جواب میں لکھا کہ نیب نے پیسے اپنے پاس ہی رکھے ہیں، آپ ایک روپیہ بھی اپنے پاس کیسے رکھ سکتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نیب کو کہیں خودپیش ہوں۔

فاروق ایچ نائیک نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی دورمیں کوئی نیب کیس نہیں بنا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی کی بات ہمارے سامنے نہ کریں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت کیسے متاثر ہے؟۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ نیب کی بجٹ رپورٹ کہاں ہے؟ چیف جسٹس نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں نیب سے 10 سالہ بجٹ کا ریکارڈ طلب کر لیا جب کہ قومی احتساب بیورو کے وکیل کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب مسترد کردیا۔ تحریری حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی فریق 7 دنوں میں جواب داخل کروانا چاہے تو کرواسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے