ماسکو ؍ کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شدت اختیار کرگئی اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے شہر خارکیف میں گائیڈڈ بموں سے حملہ کیا،جس میں رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ روسی فوجیوں نے ایک اور حملے میں پاور گرڈ کو نشانہ بنایا جس سے توانائی کی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔ یوکرینی حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد جنوبی مغربی علاقے میں مکمل بلیک آؤٹ ہوگیااور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتحادیوں سے مدد کرنے کی اپیل کی ۔ ادھر روس کے زیر قبضہ کریمیا کے شہر سیواستوپول پر یوکرین کے میزائل حملے میں 4افراد ہلاک اور 144 زخمی ہو گئے ۔ روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں امریکا کی طرف سے یوکرین کو فراہم کیے گئے 5اے ٹاکمس میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ روسی فضائی دفاعی یونٹس نے کلسٹر وار ہیڈز سے لیس 4میزائلوں کو روک لیا لیکن پانچواں فضا میں ہی پھٹ گیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ میزائل حملے کا ذمے دار واشنگٹن ہے کیوں کہ اس نے وہ ہتھیار یوکرین کو فراہم کیے تھے۔ واضح رہے کہ آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم درست نشانے پر حملوں کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے ذریعے داغے جانے والے میزائلوں کی حد تقریباً 300 کلومیٹر ہے۔دوسری جانب یورپی یونین نے 116 روسی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔ ذرائع ابلا غ کے مطابق یورپی یونین نے روس، چین، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کی 61 کمپنیوں کو بھی پابندیوں کے چودہویں پیکیج میں شامل کیا ہے۔اس کے علاوہ دہری استعمال کی ٹیکنالوجی کی برآمد پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہے۔ یورپی یونین نے آرکٹک 2 اور مرمانسک ایل این جی جیسے مائع قدرتی گیس کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے سرمایہ کاری ،سامان، ٹیکنالوجی اور خدمات کی فراہمی بھی بند کردی ہے۔ بلجیم کے وزیر خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہناتھا کہ یورپی یونین کے ممالک نے روس کے منجمد اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع کو یوکرین کے مفاد میں استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اعلان کیا کہ یورپی یونین نے ایک ایسا طریقہ کار تیار کیا ہے جو کیف حکومت کے لیے اسلحہ کی خریداری پر منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سے قبل ہنگری کی حکومت نے روسی اثاثوں کے استعمال کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا،جس کے بعد اثاثوں کے سود کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
