English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

آپریشن عزم استحکام کا ماضی کے آپریشنز سے موازنہ درست نہیں،چند دنوں میں طریقہ کار واضح ہوجائیگا: وزیردفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کی کہیں رٹ قائم نہیں ہوئی، آپریشن عزم استحکام کا ماضی کے آپریشنز سے موازنہ درست نہیں ہے، عزم استحکام آپریشن کا مرکز خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہوں گے جس کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کی جائے گی ، کچھ عرصہ قبل حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو معافیاں دینے کا نقصان ہوا ہے ،پچھلے آپریشن میں نقل مکانی ہوئی تھی، یہ آپریشن انٹیلی جنس بیسڈ ہوں گے ،ملک میں دہشت گردوں کی کہیں رٹ قائم نہیں ہوئی، ماضی میں سوات قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ چند دنوں میں آپریشن عزم استحکام کا طریقہ کار واضح ہوجائیگا ،افواج پاکستان روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہی ہے۔ عدلیہ، میڈیا، سیاستدان اور اداروں کو اس آپریشن پر متفق ہونا ہوگا، آپریشن پر اپوزیشن کی تشویش کا ازالہ کیاجائے گا، ریاست کے تمام اداروں کو آپریشن کی حمایت کرنی چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی، اے این پی اور جے یو آئی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جے یوآئی، اے این پی اور پی ٹی آئی کی تشویش دور کی جائے گی، تینوں جماعتیں ووٹ بینک محفوظ رکھنے کیلئے اسٹینڈ لے رہے ہیں لیکن اس وقت ووٹ بینک کے لیے نہیں ملک کے لیے اسٹینڈ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایپکس کمیٹی میں کوئی اختلاف نہیں کیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دبے الفاظ میں آپریشن کی حمایت کی، عزم استحکام آپریشن کے لیے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، اس کمیٹی میں وزیر اعظم، آرمی چیف اور چاروں وزیر اعلیٰ سمیت دیگر موجود تھے لیکن کسی نے مخالفت نہیں کی ۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پانچ چھ ہزار دہشت گروں اور طالبان کو یہاں بسایا گیا، طالبان کے مشہور لیڈروں کو معافی بھی دی گئی۔ دنیا میں امن ہوچکا، نیٹوکی فوجیں جاچکیں، ہم آج بھی نبرد آزما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کا مرکز خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہوں گے جس کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہے ،ماضی میں دہشگردوں کے خلاف ضرب عزب سمیت دیگر آپریشن ہوئے، دسمبر2016 میں سانحہ اے پی ایس ہوا اس وقت نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، اس وقت سوات سمیت کچھ علاقوں پر دہشگردوں کا قبضہ تھا، اب صورت حال اس وقت سے مختلف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے